🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. كانت بيعة عثمان سنة أربع وعشرين فى عشرة المحرم .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سن چوبیس ہجری میں دس محرم کو ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4586
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا طلحة بن زيد، عن عَبِيدة (1) بن حسان، عن عطاء الكَيْخاراني، عن جابر بن عبد الله، قال: بينما نحن في بيت ابن حشفة في نفر من المهاجرين فيهم أبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقّاص، فقال رسول الله ﷺ:"لِينهَضْ كلُّ رجلٍ منكم إلى كُفْوِهِ"، فنهض النَّبِيُّ ﷺ إلى عثمانَ فاعتنقَه، وقال:"أنت وليِّي في الدنيا والآخرة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4536 - بل ضعيف
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے (وہ فرماتے ہیں:) ہم مہاجرین کی ایک جماعت کے ہمراہ ابن حشفہ کے گھر موجود تھے۔ ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے کفو (ہمسر) کے ساتھ کھڑا ہو جائے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، اور ان سے بغلگیر ہو گئے، اور فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4586]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4586 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبيد.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ”عبید“ بن گیا ہے (جبکہ درست ”عبیدہ“ ہے)۔
(2) إسناده تالف من أجل طلحة بن زيد - وهو الشامي الرَّقّي - فهو متّهمٌ بالوضع، وشيخه عَبيدة بن حسان متروك الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ”تالف“ (بالکل ضائع / سخت ضعیف) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ طلحہ بن زید (الشامی الرقی) ہے، کیونکہ وہ حدیث گھڑنے کے الزام میں متہم (مُتّہم بالوضع) ہے، اور اس کے شیخ ”عبیدہ بن حسان“ متروک الحدیث ہیں۔
وأخرجه أبو يعلى في "مسنده" (2051)، وابن حبان في "المجروحين" 1/ 383 - 384، وابن شاهين في الخامس في "أفراده" (70)، وفي "مذاهب أهل السنة" (82)، وأبو نُعيم في "فضائل الخلفاء الراشدين" (12)، والخطيب البغدادي في "تالي تلخيص المتشابه" 1/ 199، وابن عساكر 39/ 101، وابن الجوزي في "الموضوعات" (624) من طرق عن شيبان بن فرُّوخ، بهذا الإسناد. وأخرجه أبو بكر القَطِيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (821) و (868)، وابن عساكر 39/ 101 من طريق الوضاح بن حسان، عن طلحة بن زيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ نے اپنی ”مسند“ (رقم: 2051) میں، ابن حبان نے ”المجروحین“ (1/ 383-384) میں، ابن شاہین نے ”افرادہ“ کے پانچویں حصے (رقم: 70) اور ”مذاہب اہل السنیٰ“ (رقم: 82) میں، ابو نعیم نے ”فضائل الخلفاء الراشدین“ (12) میں، خطیب بغدادی نے ”تالی تلخیص المتشابہ“ (1/ 199) میں، ابن عساکر (39/ 101) اور ابن الجوزی نے ”الموضوعات“ (624) میں متعدد طرق سے شیبان بن فروخ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور اسے ابو بکر القطیعی نے احمد بن حنبل کی ”فضائل الصحابہ“ کے زوائد (821، 868) میں اور ابن عساکر (39/ 101) نے وضاح بن حسان کے طریق سے، انہوں نے طلحہ بن زید سے اسی طرح روایت کیا ہے۔