🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. كَانَتْ بَيْعَةُ عُثْمَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فِي عَشَرَةِ الْمُحَرَّمِ .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سن چوبیس ہجری میں دس محرم کو ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنَا أبو النضر الفقيه بالطابَرَان، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عُمر بن مَيسرة، حَدَّثَنَا القاسم بن الحَكَم بن أوس الأنصاري، حدثني أبو عُبادة الزُّرَقي، حدثني زيد بن أسلم، عن أبيه، قال: شهدتُ عثمان يوم حُصِرَ في موضع الجنائز، فقال: أنشُدُك الله يا طلحةُ، أتذكر يومَ كنتُ أنا وأنت مع رسول الله ﷺ في مكانِ كذا وكذا، وليس معه من أصحابه غيري وغيرُك، فقال لك:"يا طلحةُ، إنه ليس من نبيٍّ إلَّا وله رَفيقٌ من أمّتِه معه في الجنة، وإنَّ عثمانَ رفيقي ومعي في الجنة"؟ فقال طلحة: اللهمَّ نعم، قال: ثم انصرف طلحةُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4537 - قاسم هذا قال البخاري لا يصح حديثه
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں اس دن حاضر تھا جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جنازہ گاہ کے مقام پر محصور کیا گیا تھا، تب آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے طلحہ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب میں اور تم فلاں فلاں جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے اور وہاں میرے اور تمہارے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اور صحابی نہیں تھا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا: اے طلحہ! ہر نبی کا اپنی امت میں سے ایک رفیق ہوتا ہے جو جنت میں اس کے ساتھ ہوگا، اور بے شک عثمان جنت میں میرا رفیق اور میرے ساتھ ہے۔؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے اللہ! ہاں (مجھے یاد ہے)، پھر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس چلے گئے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي عُبادة الزُّرَقي» [ترقيم الرساله 4587] [ترقيم الشركة 4563] [ترقيم العلميه 4537]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4587 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي عُبادة الزُّرَقي - وهو عيسى بن عبد الرحمن - فهو متروك الحديث، والقاسم بن الحكم ليِّن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ ابو عبادہ الزرقی (عیسیٰ بن عبد الرحمن) ہے، کیونکہ وہ متروک الحدیث ہے، اور (دوسرا راوی) القاسم بن الحکم ”لین الحدیث“ (کمزور) ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد بن حنبل في زياداته على "المسند" 1/ (552) عن عُبيد الله بن عمر القواريري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ”المسند“ کے زوائد (1/ 552) میں عبید اللہ بن عمر القواریری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4587 in Urdu