المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. من كنت مولاه فعلي مولاه
جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے
حدیث نمبر: 4628
حدثَناه أبو بكر بن إسحاق ودَعْلَج بن أحمد السِّجْزِي، قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا الأزرق بن علي، حدثنا حسان بن إبراهيم الكِرْماني، حدثنا محمد بن سلمة بن كُهيل، عن أبيه، عن أبي الطُّفيل عامر بن واثلة (1) ، أنه سمع زيد ابن أرقَمَ يقول: نزلَ رسولُ الله ﷺ بين مكة والمدينة عند سَمُراتٍ خمس دَوحاتٍ عِظامٍ، فكَنَسَ الناسُ ما تحت السَّمُرات، ثم راح رسول الله ﷺ عشيّةً فصلّى، ثم قام خطيبًا، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، وذكّر ووَعَظ فقال ما شاء الله أن يقول، ثم قال:"أيُّها الناسُ، إني تاركٌ فيكم أمريَن لن تَضِلُّوا إن اتبعتُمُوهما: كتابَ اللهِ وأهلَ بيتي عِتْرَتي" ثم قال:"أتعلمُون أني أَولى بالمؤمنين من أنفسِهم؟" ثلاث مرات، قالوا: نعم، فقال رسول الله ﷺ:"مَن كنتُ مَولاهُ فعليّ مَولاهُ" (2) . وحديث بُريدة الأسلمي صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4577 - لم يخرجا لمحمد بن سلمة بن كهيل وقد وهاه السعدي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4577 - لم يخرجا لمحمد بن سلمة بن كهيل وقد وهاه السعدي
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان پانچ بڑے بڑے درختوں کے قریب ٹھہرے، لوگوں نے درختوں کے نیچے صفائی وغیرہ کر لی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے، نماز پڑھائی پھر فرمایا: اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم نے ان کی اتباع کر لی تو تم کبھی بھٹکو گے نہیں۔ کتاب اللہ۔ میری آل۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں۔ آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں ” مولیٰ “ ہوں تو علی بھی اس کا ” مولیٰ “ ہے۔ ٭٭ اور بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4628]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4628 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (م): عن عامر، وفي (ز) و (ب): عن ابن واثلة، وكلاهما خطأ، فلفظة "عن" مقحمة، لأنَّ اسم أبي الطفيل عامر بن واثلة.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص) اور (م) میں ”عن عامر“ اور (ز) اور (ب) میں ”عن ابن واثلہ“ ہے، دونوں غلط ہیں، لفظ ”عن“ زائد ہے، کیونکہ ابو الطفیل کا نام ہی عامر بن واثلہ ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن سلمة بن كُهيل كما أشار إليه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه لم ينفرد به فقد رواه حبيب بن أبي ثابت وفطر بن خليفة عن أبي الطفيل عامر بن واثلة، كما عند الرواية السابقة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند محمد بن سلمہ بن کہیل کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے (جیسا کہ ذہبی نے اشارہ کیا)، لیکن وہ اس میں منفرد نہیں ہیں، حبیب بن ابی ثابت اور فطر بن خلیفہ نے بھی اسے ابو الطفیل سے روایت کیا ہے جیسا کہ پچھلی روایت میں ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 216 من طريق أبي يعلى الموصلي، عن الأزرق بن علي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (42/ 216) نے ابو یعلیٰ الموصلی کے طریق سے، انہوں نے ازرق بن علی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج آخره الترمذيُّ (3713) من طريق شعبة، عن سلمة بن كهيل، عن أبي الطُّفيل، عن أبي سَريحة أو زيد بن أرقم - شك شعبة - وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وأبو سَريحة هو حذيفة بن أَسيد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا آخری حصہ ترمذی (3713) نے شعبہ کے طریق سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے ابو الطفیل سے، انہوں نے ابو سریحہ یا زید بن ارقم (شعبہ کا شک) سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا: حدیث حسن غریب ہے۔ ابو سریحہ سے مراد حذیفہ بن اسید ہیں۔