🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ذكر اختلاف الرواة والألفاظ فى حديث القلتين
حدیثِ قلتین میں روایات اور الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
كما أخبرَناه دَعلَجُ بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا أبو أسامة. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حدثنا محمد بن عثمان بن كَرَامة، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كَثير، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الماء وما يَنُوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال:"إذا كان الماءُ قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَثَ" (2) . وهكذا رواه الشافعي في"المبسوط"، عن الثِّقة، وهو أبو أسامة بلا شكٍّ فيه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر درندے اور جانور باری باری آتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو، تو وہ گندگی (نجاست) کو قبول نہیں کرتا (ناپاک نہیں ہوتا)۔
امام شافعی نے بھی اپنی کتاب المبسوط میں اسے ثقہ راوی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور وہ ثقہ راوی بلاشبہ ابو اسامہ ہی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 464]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 464 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند اپنے ماقبل (پچھلی روایت) کی طرح صحیح ہے۔