🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. الدفع عن أسامة بن زيد .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4649
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الدَّشْتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس الرازي، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن أبي الشَّعثاء، عن عمِّه، عن أسامة بن زيد، قال: بعثني رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة في أُناس من أصحابه، فاستَبَقْنا أنا ورجلٌ من الأنصار إلى العدوّ، فحملتُ عليه، فلما دنوتُ منه كَبّر، فطعنتُه فقتلتُه، ورأيتُ أنه إنما فَعَل ذلك ليُحرِزَ دمَه، فلما رجعْنا سبقَني إلى النبيّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، لا فارسَ خيرٌ من فارسِكم، إنّا استَلحَقْنا رجلًا فسبقَني إليه، فكبّر فلم يمنعه ذلك أن قَتَلَه، فقال النبي ﷺ:"يا أسامةُ، ما صنعتَ اليوم؟" فقلت: حملتُ على رجلٍ فكبّر، فرأيتُ أنه إنما فعل ليُحرِزَ دمَه فقتلتُه، فقال:"كيف بعدَ اللهُ أكبرُ، فهلّا شَقَقَتَ عن قلبِه فعَلِمت (1) ما قال؟! فلم يزَلْ يقول لي يومئذٍ، فلا أقاتلُ رجلًا يقول: اللهُ أكبرُ مما نهاني عنه، حتى ألقاُه (2) .
سیدنا ابوالشعثاء اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ایک جنگ میں بھیجا، تو میں اور ایک انصاری صحابی دوسرے لوگوں سے پہلے دشمن تک جا پہنچے، میں نے ایک آدمی کا تعاقب کیا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ لیکن میں نے اس کو نیزہ مار کر قتل کر ڈالا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کیلئے نعرئہ تکبیر بلند کیا تھا۔ جب ہم اس جنگ سے واپس آئے تو وہ انصاری مجھ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ گیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے شہسواروں سے بہتر کوئی شہسوار نہیں ہے۔ ہم ایک آدمی کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے لیکن یہ اس کے پاس ہم سے پہلے پہنچ گئے، اس آدمی نے اللہ اکبر (بھی) کہا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اسامہ! تم نے آج یہ کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو قابو میں لیا تو اس نے اللہ اکبر پکارا۔ میں نے سوچا کہ یہ اپنی جان بچانے کیلئے اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہا ہے، اس لئے میں نے اس کو مار ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم نے اس کو) اللہ اکبر کہنے کے باوجود (قتل کر دیا) تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا؟ لیکن میں نے جو عذر پیش کرنا تھا کر دیا۔ اس دن آپ مجھ سے مسلسل یہی فرماتے رہے (کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا؟) اس لئے میں کسی ایسے آدمی سے نہیں لڑوں گا جو اللہ اکبر کہنے والا ہو، جس سے لڑنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4649]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4649 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: فقلت، وهو تحريف إذ لا يُفهَم الكلام بها، والصواب ما أثبتنا، وهو موافق لبعض روايات هذا الخبر.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں ”فقلت“ ہے، جو کہ تحریف ہے کیونکہ اس سے بات سمجھ میں نہیں آتی۔ درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے، اور یہ اس خبر کی بعض روایات کے موافق ہے۔
(2) حديث صحيح لكن بذكر "لا إله إلّا الله" بدل "الله أكبر"، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عم أبي الشعثاء - واسم أبي الشعثاء سُليم بن أسود المُحاربي - وإبراهيم بن مُهاجر ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد ولكنه اختلف عليه في إسناده فروي عنه مرة بزيادة ذكر إبراهيم النخعي بينه وبين أبي الشعثاء، كما في الطريق التالية.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے لیکن ”اللہ اکبر“ کی بجائے ”لا الہ الا اللہ“ کے ذکر کے ساتھ۔ اور یہ سند ابو الشعثاء (سلیم بن اسود المحاربی) کے چچا کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہے مگر متابعات و شواہد میں اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، لیکن اس کی سند میں اختلاف ہوا ہے، کبھی اس کے اور ابو الشعثاء کے درمیان ابراہیم النخعی کا واسطہ ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ اگلے طریق میں ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الديات" ص 35 عن أبي عمرو عثمان بن سعيد بن عمرو، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الدشتكي الرازي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے ”الدیات“ (صفحہ 35) میں ابو عمرو عثمان بن سعید کے طریق سے، انہوں نے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن سعد الدشتکی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 36/ (21745) و (21802)، والبخاري (4269) و (6872)، ومسلم (96)، وأبو داود (2643)، والنسائي (8540) و (8541)، وابن حبان (4751) من طريق أبي ظَبيان حُصين بن جُندب، عن أسامة بن زيد. غير أنه جاء في هذه الرواية أنَّ الرجل الذي قتله أسامة قال: لا إله إلّا الله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (36/ 21745، 21802)، بخاری (4269، 6872)، مسلم (96)، ابو داود (2643)، نسائی (8540، 8541) اور ابن حبان (4751) نے ابو ظبیان حصین بن جندب کے طریق سے اسامہ بن زید سے روایت کیا ہے۔ مگر اس روایت میں ہے کہ اسامہ نے جس آدمی کو قتل کیا اس نے ”لا الہ الا اللہ“ کہا تھا۔