🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة .
وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4660
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي من أصل كتابه، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثني محمد بن سليمان بن الأصبهاني، عن سعيد بن مسلم المكي (1) ، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، قالت: لما سارَ عليٌّ إلى البصرة دخل على أم سلمةَ زوج النبي ﷺ يُودِّعها، فقالت: سِرْ في حفظ الله وفي كَنَفِه، فوالله إنك لعلى الحقِّ والحقُّ معك، ولولا أني أكرهُ أن أعصيَ الله ورسولَه، فإنه أمَرَنا ﷺ أن نَقِرَّ في بيوتنا، لسِرْتُ معك، ولكن واللهِ لأُرسلنّ معك مَن هو أفضلُ عندي وأعزُّ عليَّ من نفسي؛ ابني عمرُ (2) . هذه الأحاديث الثلاثة كلُّها صحيحة على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4611 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو الوداعی ملاقات کیلئے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے، تو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (دعا دیتے ہوئے) کہا: آپ اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں جائیں، خدا کی قسم، بے شک آپ ہی حق پر ہیں اور حق آپ کے ساتھ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ڈر نہ ہوتا تو میں بذات خود آپ کے ہمراہ چلتی۔ تاہم میں اپنے بیٹے عمر کو آپ کے ساتھ روانہ کرتی ہوں جو کہ میرے نزدیک سب سے افضل ہے اور وہ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ ٭٭ مذکورہ تینوں احادیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4660]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4660 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا جاءت نسبة سعيد بن مسلم في أصول "المستدرك" مكِّيًا، وقيَّده الحافظ في "إتحاف المهرة" (23583) بابن بانك، ولم يذكر نسبته، فإذا كان سعيد بن مسلم هذا هو ابن بانك - وهو الظاهر - فهو مدنيٌّ لا مكِّي.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ”المستدرک“ کے اصل نسخوں میں سعید بن مسلم کی نسبت اسی طرح ”مکی“ آئی ہے۔ حافظ ابن حجر نے ”اتحاف المہرہ“ (23583) میں اسے ”ابن بانک“ کے ساتھ مقید کیا ہے اور اس کی نسبت (مکی یا مدنی) ذکر نہیں کی۔ پس اگر یہ سعید بن مسلم وہی ابن بانک ہے - جیسا کہ ظاہر ہے - تو وہ ”مدنی“ ہے نہ کہ ”مکی“۔
(2) إسناده قويٌّ من أجل عبد الرحمن بن صالح الأزدي، فهو صدوق لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند عبد الرحمن بن صالح الازدی کی وجہ سے ”قوی“ ہے، وہ صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں۔