🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً .
وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4662
وحدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلَف الدُّوري، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا عبد السلام بن حرب، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: جاء الزُّبيرُ إلى عمر بن الخطاب يستأذنُه في الغزو، فقال عمرُ: اجلس في بيتِك، فقد غزوتَ مع رسولِ الله ﷺ، قال: فردَّد ذلك عليه، فقال له عمر في الثالثة أو التي تليها: اقعُد في بيتك، فوالله إني لأجدُ بطَرَفِ المدينةِ منكَ ومن أصحابك أن تَخرُجُوا فتُفْسِدُوا عليَّ أصحاب محمدٍ ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4612 - صحيح
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھے رہو، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات کر چکے ہو۔“ انہوں نے بار بار اصرار کیا تو تیسری یا اس کے بعد والی مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھو، اللہ کی قسم! مجھے مدینہ کے اطراف میں تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی جانب سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ تم (فتنے کے لیے) نکلو گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے معاملات کو مجھ پر خراب کر دو گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4662]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل إسماعيل بن موسى السُّدِّي، وقد توبع على بعضه.» [ترقيم الرساله 4662] [ترقيم الشركة 4638] [ترقيم العلميه 4612]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل إسماعيل بن موسى السُّدِّي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4662 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل إسماعيل بن موسى السُّدِّي، وقد توبع على بعضه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند اسماعیل بن موسیٰ السدی کی وجہ سے ”حسن“ ہے، اور اس کے بعض حصے پر ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه البزار (332) من طريق إسحاق بن منصور، عن عبد السلام بن حرب، به. لكن دون ترديد الزبير استئذانه، ودونَ جوابِ عُمر له في آخر الخبر، وإسناده صحيح كما قال الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1944).
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (332) نے اسحاق بن منصور کے طریق سے، انہوں نے عبد السلام بن حرب سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن اس میں زبیر کے بار بار اجازت مانگنے اور آخر میں عمر کے جواب کا ذکر نہیں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے (ابن حجر: مختصر زوائد البزار 1944)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4662 in Urdu