المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
84. لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة .
وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
حدیث نمبر: 4663
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: لما بَلَغَت عائشة بعض ديار بني عامر نَبَحَت عليها الكلابث، فقالت: أيُّ ماء هذا؟ قالوا: الحوأب، قالت ما أظنُّنى إلا راجعةً، فقال الزبيرُ: لا بعدُ، تَقْدَمي ويراكِ الناسُ، ويُصلِحُ الله ذاتَ بينِهم قالت ما أظنُّني إلَّا راجعةً، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كيف بإحداكُنَّ إذ نَبَحتْها كلابُ الحَوْأب" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا قیس ابن ابی حازم فرماتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بنی عامر کے علاقہ میں پہنچیں تو ان پر کتے بھونکنے لگے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کونسا علاقہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ” حوأب “ ہے۔ آپ نے کہا: میں واپس لوٹنا چاہتی ہوں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک مرتبہ روانہ ہونے کے بعد واپس جانا درست نہیں ہے۔ جبکہ لوگ بھی آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے احوال کی اصلاح فرمائے۔ آپ نے پھر بھی کہا: میرا خیال ہے کہ مجھے واپس ہی جانا چاہئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ” تم میں سے اس ایک کا اس وقت کیا حال ہو گا جب اس پر ” حوأب “ کے کتے بھونکیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے ابواسحاق کی سیدنا براء کے حوالے سے روایت کردہ حدیث مختصراً نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4663]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4663 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24254) عن يحيى بن سعيد القطان، و 41 / (24654) من طريق شعبة بن الحجاج، وابن حبان (6732) من طريق وكيع بن الجراح وعلي بن مُسهِر، أربعتهم عن إسماعيل بن أبي خالد، به. وأبهم يحيى القطان ووكيع وابن مُسهر اسمَ الرجل الذي حثّ عائشة على المُضيِّ، وسمّاهُ شعبة كما سمَّاهُ يعلى بنُ عُبيد، يعني الزبيرَ بن العوام.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24254) نے یحییٰ القطان سے؛ (41/ 24654) شعبہ کے طریق سے؛ اور ابن حبان (6732) نے وکیع اور علی بن مسہر کے طریق سے، ان چاروں نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ، وکیع اور ابن مسہر نے اس شخص کا نام مبہم رکھا جس نے عائشہ کو آگے بڑھنے پر ابھارا، جبکہ شعبہ اور یعلیٰ بن عبید نے اس کا نام زبیر بن العوام بتایا ہے۔
والحوأب: ماء من البصرة على طريق مكة.
📝 نوٹ / توضیح: ”الحوأب“: بصرہ سے مکہ کے راستے میں ایک پانی کی جگہ ہے۔