🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة .
وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4663
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: لما بَلَغَت عائشة بعض ديار بني عامر نَبَحَت عليها الكلابث، فقالت: أيُّ ماء هذا؟ قالوا: الحوأب، قالت ما أظنُّنى إلا راجعةً، فقال الزبيرُ: لا بعدُ، تَقْدَمي ويراكِ الناسُ، ويُصلِحُ الله ذاتَ بينِهم قالت ما أظنُّني إلَّا راجعةً، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كيف بإحداكُنَّ إذ نَبَحتْها كلابُ الحَوْأب" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی عامر کے کسی مقام پر پہنچیں تو وہاں کے کتوں نے ان پر بھونکنا شروع کر دیا، انہوں نے پوچھا: یہ کون سا مقام ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ حوأب کا چشمہ ہے، انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اب میں واپس لوٹ جاؤں گی، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ آپ آگے بڑھیں، لوگ آپ کو دیکھیں گے تو اللہ ان کے درمیان صلح فرما دے گا، انہوں نے پھر فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا: تم میں سے اس کا کیا حال ہوگا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4663] [ترقيم الشركة 4639] [ترقيم العلميه 4613]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4663 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24254) عن يحيى بن سعيد القطان، و 41 / (24654) من طريق شعبة بن الحجاج، وابن حبان (6732) من طريق وكيع بن الجراح وعلي بن مُسهِر، أربعتهم عن إسماعيل بن أبي خالد، به. وأبهم يحيى القطان ووكيع وابن مُسهر اسمَ الرجل الذي حثّ عائشة على المُضيِّ، وسمّاهُ شعبة كما سمَّاهُ يعلى بنُ عُبيد، يعني الزبيرَ بن العوام.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24254) نے یحییٰ القطان سے؛ (41/ 24654) شعبہ کے طریق سے؛ اور ابن حبان (6732) نے وکیع اور علی بن مسہر کے طریق سے، ان چاروں نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ، وکیع اور ابن مسہر نے اس شخص کا نام مبہم رکھا جس نے عائشہ کو آگے بڑھنے پر ابھارا، جبکہ شعبہ اور یعلیٰ بن عبید نے اس کا نام زبیر بن العوام بتایا ہے۔
والحوأب: ماء من البصرة على طريق مكة.
📝 نوٹ / توضیح: ”الحوأب“: بصرہ سے مکہ کے راستے میں ایک پانی کی جگہ ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4663 in Urdu