المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. من أطاع عليا فقد أطاعني
جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی
حدیث نمبر: 4669
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة الدمشقي، حدثنا محمد بن خالد الوَهْبي (3) ، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر البزّار، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن الفضل بن مَعقِل بن يَسَار (4) ، عن عبد الله بن نِيَار الأسلمي، عن عمرو بن شاسٍ الأسلميّ - وكان من أصحاب الحديبية - قال: خرجْنا مع عليٍّ إلى اليمن، فجَفَاني في سفَره ذلك، حتى وجدتُ في نفسي، فلما قدمتُ أظهرتُ شِكايتَه في المسجد، حتى بلغَ ذلك رسولَ الله ﷺ، قال: فدخلتُ المسجدَ ذاتَ غَداةٍ ورسولُ الله ﷺ في ناسٍ من أصحابه، فلما رآني أبَدَّني عينَيه - قال: يقول: حَدَّد إليَّ النظرَ - حتى إذا جلستُ قال:"يا عمرُو، أمَا والله لقد آذَيتَني"، فقلت: أعوذُ بالله أن أُؤذيَك يا رسولَ الله، قال:"بلي، من آذى عليًّا فقد آذاني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4619 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4619 - صحيح
سیدنا عمرو بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یمن کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے دوران سفر میرے ساتھ زیادتی کی۔ میں نے یہ بات بہت محسوس کی۔ جب ہم واپس آئے تو میں نے مسجد میں (بعض صحابہ کرام کے سامنے) ان کی شکایت کا اظہار کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں جلوہ گر تھے۔ آپ نے جب مجھے دیکھا تو ناراضگی کے ساتھ مجھے گھورا، تاہم میں (بھی وہیں پر) بیٹھ گیا۔ جب میں بیٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! خدا کی قسم! تو نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اس بات سے کہ آپ کو تکلیف پہنچاؤں۔ آپ نے فرمایا: جس نے علی کو تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4669]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4669 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا في النسخ الخطية، والمعروف بالرواية عن ابن إسحاق وعنه أبو زرعة هو أحمد أخوه، كما في عدة مواضع من هذا الكتاب، وكلاهما لا بأس به.
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں ایسا ہی ہے، جبکہ ابن اسحاق سے اور ان سے ابو زرعہ روایت کرنے میں معروف ان کا بھائی احمد ہے، جیسا کہ اس کتاب میں کئی جگہوں پر ہے، اور دونوں میں کوئی حرج نہیں۔
(4) كذا جاء مسمًّى في رواية أحمد كما في النسخ الخطية من "مسنده"، والصواب: سنان، لا يسار كما في مصادر ترجمته.
📝 نوٹ / توضیح: (4) احمد کی روایت میں قلمی نسخوں کے مطابق یہ نام اسی طرح آیا ہے، درست ”سنان“ ہے، ”یسار“ نہیں (جیسا کہ تراجم کے مصادر میں ہے)۔
(1) إسناده ضعيف لجهالة الفضل بن معقل بن سنان، وسماه ابن حبان في "ثقاته" 7/ 317 الفضل بن عبد الله بن معقل بن سنان، قال: ومن قال: الفضل بن معقل فقد نسبه إلى جده. وقال ابن مَعِين في "تاريخه" برواية العباس الدوري (504): عبد الله بن نيار عن عمرو بن شاس ليس هو بمتصل لا يشبه أن يكون رأى عمرَو بنَ شاس.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند فضل بن معقل بن سنان کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابن حبان نے ”ثقات“ میں اسے فضل بن عبد اللہ بن معقل بن سنان کہا ہے اور کہا کہ جس نے فضل بن معقل کہا اس نے دادا کی طرف نسبت کی۔ ابن معین نے کہا: عبد اللہ بن نیار کی عمرو بن شاس سے روایت متصل نہیں، نہیں لگتا کہ انہوں نے عمرو کو دیکھا ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 25/ (15960).
📖 حوالہ / مصدر: یہ ”مسند احمد“ (25/ 15960) میں موجود ہے۔
وأخرج المرفوع منه ابن حبان (6923) من طريق مسعود بن سعد، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا مرفوع حصہ ابن حبان (6923) نے مسعود بن سعد عن محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد للمرفوع منه حديثُ سعد بن أبي وقاص عند ابن أبي عمر العَدَني في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (3938)، وأبي بكر محمد بن سليمان الباغَنْدي في "أماليه" (49)، والبزار (1166)، وأبي يعلى (770)، والشاشي في "مسنده" (72)، والآجُرّي في "الشريعة" (1543)، وأبي بكر القطيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (1078)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 203 و 204، وضياء الدين المقدسي في "المختارة" 3 / (1070) و (1071)، وفي إسناده قنان النهمي، وليس بذاك القوي.
🧩 متابعات و شواہد: مرفوع حصے کی تائید سعد بن ابی وقاص کی حدیث کرتی ہے جو ابن ابی عمر العدنی، باغندی، بزار، ابو یعلیٰ، شاشی، آجری، قطیعی، ابن عساکر اور ضیاء المقدسی کے ہاں موجود ہے۔ اس کی سند میں قنان النہمی ہے جو زیادہ قوی نہیں ہے۔