🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
102. قَضَاءُ عَلِيٍّ فِي ثَلَاثَةٍ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اس مقدمے میں فیصلہ کہ تین آدمیوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت سے تعلق قائم کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4710
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الأجلحُ، عن الشَّعْبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقَم، قال: بينا أنا عند رسول الله ﷺ إذ جاءه رجلٌ من أهل اليمن، فجعل يُحدِّث النبيَّ ﷺ، ويُخبرُه، فقال: يا رسول الله، أتى عليًّا ثلاثةُ نَفَرٍ يَختَصِمُون في ولدٍ وَقَعُوا على امرأةٍ في طُهْرٍ واحدٍ، فقال لاثنين: طِيبَا نَفْسًا بهذا الولد، ثم قال: أنتم شُركاءُ مُتشاكِسُون، إني مُقرعٌ بينكم، فمن قَرَعَ له فله الولدُ وعليه ثُلثا الديةِ لصاحِبَيه، فأقرَعَ بينهم، فقَرَعَ أحدُهم، فدَفَع إليه الولدَ، فضحك النبيُّ ﷺ حتى بَدَتْ نَواجِدُه، أو قال: أضراسُه (1) .
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ یمن کا ایک شخص آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک واقعہ بتاتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین ایسے آدمی آئے جو ایک بچے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ان تینوں نے ایک ہی طہر (پاکی کے ایام) میں ایک خاتون سے تعلق قائم کیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے باری باری دو دو افراد سے کہا کہ تم اس بچے سے دستبردار ہو کر اپنے تیسرے ساتھی کے حق میں خوش دلی کا مظاہرہ کرو، مگر وہ راضی نہ ہوئے، پھر انہوں نے فرمایا: تم ایسے شریک ہو جو باہم جھگڑ رہے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، جس کے نام قرعہ نکلے گا بچہ اسی کا ہوگا اور اسے اپنے بقیہ دو ساتھیوں کو (بچے کی) دیت کا دو تہائی حصہ ادا کرنا ہوگا، چنانچہ انہوں نے قرعہ اندازی کی اور ان میں سے ایک کے نام قرعہ نکلا تو انہوں نے بچہ اس کے حوالے کر دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4710]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيّن في "مسند أحمد" 32 / (19329) لكن صحَّحه بعض الأئمة بترجيح بعض طرقه كما مضى بيانه برقم (2865). وانظر ما بعده.» [ترقيم الرساله 4710] [ترقيم الشركة 4685]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4710 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيّن في "مسند أحمد" 32 / (19329) لكن صحَّحه بعض الأئمة بترجيح بعض طرقه كما مضى بيانه برقم (2865). وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے "ضعیف" ہے، جیسا کہ "مسند احمد" (32/ 19329) میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کے بعض طرق کو ترجیح دے کر اس کی تصحیح کی ہے، جیسا کہ نمبر (2865) پر گزر چکا ہے۔ اس کے بعد والی بات بھی دیکھیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4710 in Urdu