🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
135. دعاء دفع الفقر وأداء الدين .
فقر دور کرنے اور قرض ادا ہونے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4797
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا وَضاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن فاطمة، قالت: اجتمعَ مُشرِكُو قُريشٍ في الحِجْر، فقالوا: إذا مَرَّ محمد ضَرَبَه كلُّ رجل منا ضربةً. فسمعته، فدخلت على أبيها، فقالت: يا أبت اجتمع مُشرِكو قريش، فقال:"يا بُنيَّة، اسكني"، ثم خرج فدخل عليهم المسجد، فرفعوا رؤوسهم ثم نكسُوا، فأخذ قَبْضةً من تُرابٍ، فرَمَى به نحوهم، ثم قال:"شَاهَتِ الوُجُوهُ"، فما أصابَ رجلًا منهم إِلَّا قُتِل يوم بدر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4742 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مشرکین مکہ کا ایک مکان میں اجلاس ہو رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹی! یہیں ٹھہرے رہنا ہے۔ پھر آپ چلے گئے اور آپ مسجد میں ان کے پاس چلے گئے ان لوگوں نے سر اٹھا کر ایک بار دیکھا پھر سر جھکا لئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی مٹی لے کر ان جانب پھینک دی پھر فرمایا: شاہت الوجوہ (خدا کرے کہ یہ چہرے قبیح ہو جائیں)۔ اس دن جس شخص پر بھی یہ مٹی پڑی وہ بدر کے دن مارا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4797]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4797 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل وضاح بن يحيى النهشَلي، وقد توبع فيما تقدم برقم (592).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند "متابعات" (شواہد) میں حسن کے درجے کی ہے جس کی وجہ راوی "وضاح بن یحییٰ النہشلی" ہیں، اور نمبر (592) کے تحت ان کی متابعت بھی موجود ہے۔