🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
152. وَمِنْ فَضَائِلِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ، وَذِكْرُ مَوْلِدِهِ وَمَقْتَلِهِ .
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4838
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا كامل بن العلاء، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: كنا نصلي مع رسول الله ﷺ العشاء، فكان يُصلِّي فإذا سجد وَثَبَ الحَسَنُ والحسينُ على ظهره، وإذا رفع رأسه أخذهما فوضعهما وَضعًا رفيقًا، فإذا عاد عادَ عادا، فلما صلّى جعل واحدًا هاهنا وواحدًا هاهنا، فجئته، فقلتُ: يا رسول الله، ألا أذهبُ بهما إلى أُمّهما؟ قال:"لا" فَبَرَقَتْ بَرْقةٌ، فقال:"الْحَقا بأُمِّكُما"، فما زالا يَمْشِيان في ضَوْئها حتى دَخَلا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4782 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو جاتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھاتے تو انہیں نہایت نرمی کے ساتھ پکڑ کر نیچے بٹھا دیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سجدے میں جاتے تو وہ بھی دوبارہ پشت پر آ جاتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کو اپنے ایک طرف اور دوسرے کو دوسری طرف بٹھا دیا، میں نے حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں انہیں ان کی والدہ کے پاس چھوڑ آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اتنے میں بجلی چمکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ، پس وہ دونوں اس بجلی کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہو گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4838]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل كامل بن العلاء وأحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني. أبو صالح: هو ذكوان السمّان.» [ترقيم الرساله 4838] [ترقيم الشركة 4810] [ترقيم العلميه 4782]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4838 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل كامل بن العلاء وأحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني. أبو صالح: هو ذكوان السمّان.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند کامل بن العلاء اور احمد بن مہران (جو ابن خالد الاصبہانی ہیں) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابوصالح سے مراد "ذکوان السمان" ہیں۔
وأخرجه أحمد 16 / (106589) عن أسود بن عامر وأبي المنذر إسماعيل بن عمر، و (10660) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزُّبَيري، ثلاثتهم عن كامل بن العلاء، به.
📖 تخریج / حوالہ جات: اسے امام احمد نے (16/ 10658، 10659) میں اسود بن عامر اور ابوالمنذر اسماعیل بن عمر سے، اور (10660) میں ابواحمد محمد بن عبداللہ الزبیری سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں راوی اسے کامل بن العلاء سے، اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ (نوٹ: عربی متن میں نمبر 106589 کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے، سیاق کے لحاظ سے یہ 10658 اور 10659 ہیں)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4838 in Urdu