المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
153. لم يكن فى ولد على أشبه برسول الله من الحسن .
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — اولادِ علی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 4839
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن هانئ بن هانئ، عن عليّ، قال: لما أن وُلِدَ الحسنُ سمّيتُه حَرْبًا، فقال لي النبي ﷺ:"ما سمَّيتَ ابني؟" قلت: حَرْبًا، قال:"هو الحَسن"، فلما وُلِد الحُسين سمّيتُه حَرْبًا، فقال النبي ﷺ:"ما سميت ابني؟" قلت: حَرْبًا، قال:"هو الحُسين"، فلما أن وُلِد مُحسِّن قال:"ما سمَّيتَ ابني؟" قلت: حَرْبًا، قال:"هو مُحسن"، ثم قال النبي ﷺ:"إني سميتُ بَني هؤلاء بتسمية هارون بنيهِ شَبَّرًا وشَبِيرًا ومُشَبِّرًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. [ومن فضائل الحسن بن علي بن أبي طالب ﵁ وذكر مولده ومقتله]
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. [ومن فضائل الحسن بن علي بن أبي طالب ﵁ وذكر مولده ومقتله]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام ” حرب “ رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ” حسن “ ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام ” حرب “ رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ وہ ” حسین “ ہے۔ پھر جب ” محسن “ پیدا ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ” محسن “ ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے تینوں بیٹوں کے وہی نام رکھے ہیں جو سیدنا ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے رکھے تھے (ان کے نام یہ تھے) شبر، شبیر، مشبر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4839]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4839 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث منكر كما تقدم بيانه برقم (4829).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "منکر" ہے جیسا کہ اس کا بیان نمبر (4829) کے تحت گزر چکا ہے۔