🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
162. ذكر مصالحة الحسن ومعاوية
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل، نیز ان کی ولادت اور شہادت کا بیان — سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4866
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البجلي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرّة، سمعت عبد الله بن الحارث يُحدِّث عن زهير بن الأَقْمَر، رجل من بني بكر بن وائل، قال: لما قتل عليٌّ قامَ الحسنُ يَخطب الناسَ، فقام رجلٌ من أَزْدِ شَنُوءةً فقال: أشهَدُ لقد رأيتُ رسول الله ﷺ واضعه في جبوته وهو يقول:"من أحبني فليُحِبَّه"، وليبلِّغ الشاهد الغائب، ولولا كرامة سول الله ﷺ ما حدثت به أبدًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4806 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
زہیر بن اقمر جو کہ بنی بکر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو ازدشنوءۃ (علاقے) کا ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی گود میں بٹھائے ہوئے یہ فرما رہے تھے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے محبت کرے، اور جو لوگ یہاں موجود ہیں ان کو چاہئے کہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ (پھر اس نے کہا) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرم نوازی نہ ہوتی تو میں یہ بات کبھی بیان نہ کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4866]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4866 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ سند: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (23106) عن محمد بن جعفر عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 تخریج / حوالہ: اسے امام احمد (38/ 23106) نے محمد بن جعفر سے، انہوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والحِبْوة، بكسر الحاء المهملة وضمها: اسمٌ من الاحتباء، وهو أن يَضمُّ الإنسان رجليه إلى بطنه بثوب ويجمعهما به مع ظهره، ويشدُّ عليها، وقد يكون باليدين بدل الثوب.
📝 لغوی تشریح: "الحِبْوَة" (حائے مہملہ کے زیر یا پیش کے ساتھ): یہ "احتباء" سے اسم ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی ٹانگیں پیٹ کے ساتھ ملا کر کپڑے کے ذریعے اپنی پیٹھ کے ساتھ باندھ لے اور کس لے (گوٹھ مار کر بیٹھنا)۔ کبھی یہ کپڑے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے بھی ہوتا ہے۔
وانظر حديث أبي هريرة المتقدم برقم (4847).
📖 حوالہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ملاحظہ کریں جو پیچھے نمبر (4847) پر گزر چکی ہے۔