🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
169. استشهد الحسين يوم الجمعة يوم عاشوراء
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ابتدائی فضائل — سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، یومِ عاشورا شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4883
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا أبو عُبيدة بن فُضيل بن عِياض، حدثنا مالك بن سُعَير بن الخِمْس، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا نُعيم بن عبد الله المُجمِر، عن أبي هريرة، قال: ما رأيتُ الحُسين بن علي إلَّا فاضت عيني دموعًا، وذاك أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومًا، فوَجَدني في المسجد فأخذ بيدي واتكأ عليَّ، فانطلقتُ معه حتى جاء سوق بني قَيْنقاع، قال: وما كلَّمَني، فطافَ ونَظَر، ثم رجع ورجعتُ معه، فجلس في المسجد واحتَبى، وقال لي:"ادعُ لي لَكَاعِ"، فأُتي بحُسين يشتدُّ حتى وقع في حَجْره، ثم أدخل يدَه في لحيةِ رسول الله ﷺ، فجعل رسول الله ﷺ يفتحُ فمَ الحُسين فيُدخِل فيه من فيهِ (1) ، ويقول:"اللهم إني أُحبُّه فأَحِبَّه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4823 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھتا میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے، میں اس وقت مسجد میں موجود تھا، آپ علیہ السلام نے میرا ہاتھ تھام کر میرے ساتھ ٹیک لگائی، پھر میں آپ کے ہمراہ چلتے چلتے بنی قینقاع کے بازار تک گیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی، آپ نے بازار کا ایک چکر لگایا اور کچھ دیکھتے رہے پھر واپس چل دیئے، میں بھی آپ کے ہمراہ واپس ہو لیا، آپ مسجد میں تشریف لائے اور احتباء فرما کر بیٹھ گئے (احتباء ایک خاص انداز میں بیٹھنے کو کہتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: میرے پاس لکاع کو بلاؤ، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے اور آپ کی داڑھی مبارک سے کھیلنے لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا منہ کھول کر اس میں اپنا لعاب دہن ڈالتے اور ساتھ ساتھ یوں دعا مانگتے اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4883]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4883 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذلك جاء في (ز) و (ب)، ومعناه يُدخل ﷺ شيئًا من فمه الشريف في فم الحُسين، وفي (ص) و (م) و (ع) وقع بياض مكان كلمة "فيه" الأولى التي هي جار ومجرور.
🔍 تحقیقِ متن: نسخہ (ز) اور (ب) میں عبارت اسی طرح ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ نبی ﷺ اپنے دہن مبارک سے کچھ نکال کر حسین کے منہ میں ڈالتے تھے۔ نسخہ (ص)، (م) اور (ع) میں لفظ "فیہ" (پہلا والا جو جار مجرور ہے) کی جگہ خالی (بیاض) ہے۔
(2) حديث قوي، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد، وأبو عُبيدة بن الفضيل بن عياض مختلَف فيه: وثقه الدارقطني، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وضعفه الجورقاني وابن الجوزي، وما وقع في هذا الخبر من ذكرُ الحسين بن علي، مما دعا المصنِّف إلى إيراده في مناقب الحُسين فوهمٌ يغلب على الظن أنه من جهة أبي عُبيدة بن الفضيل، لأنَّ جماعة رووا هذا الخبر عن هشام بن سعد فذكروا الحَسن بن علي أخا الحُسين، وكذلك رواه نافع بن جُبَير بن مطعم عن أبي هريرة في "الصحيحين" وغيرهما، بذكر الحَسَن بن علي، كما تقدَّم تخريجه برقم (4847)، فتأكد بذلك أنَّ ذكرُ الحُسين وهمٌ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "قوی" ہے۔ یہ سند ہشام بن سعد کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ ابوعبیدہ بن الفضیل بن عیاض "مختلف فیہ" ہیں؛ دارقطنی نے ثقہ کہا، ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا، جبکہ جورقانی اور ابن الجوزی نے ضعیف کہا۔ 🔍 وہم اور تصحیح: اس خبر میں جو "حسین بن علی" کا ذکر آیا ہے (جس کی وجہ سے مصنف اسے حسین کے مناقب میں لائے) یہ "وہم" (غلطی) ہے۔ غالب گمان ہے کہ یہ ابوعبیدہ بن الفضیل کی طرف سے ہے۔ کیونکہ ایک جماعت نے اسے ہشام بن سعد سے روایت کیا تو انہوں نے حسین کے بھائی "حسن بن علی" کا ذکر کیا۔ اسی طرح نافع بن جبیر نے ابوہریرہ سے "صحیحین" وغیرہ میں "حسن بن علی" کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے (جیسا کہ نمبر 4847 پر تخریج گزری)۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں حسین کا ذکر وہم ہے۔
وأخرجه أحمد 16/ (10891) عن حماد بن خالد الخياط، عن هشام بن سعد، به. بذكر الحَسَن بن عليٍّ.
📖 تخریج / حوالہ: اسے احمد (16/ 10891) نے حماد بن خالد الخیاط سے، انہوں نے ہشام بن سعد سے روایت کیا، اور اس میں "حسن بن علی" کا ذکر ہے۔
وقد تابع حمادًا الخياط على ذكرُ الحَسَن جماعةٌ، وهم الليث بن سعد عند البزار (8155)، والآجريّ في "الشريعة" (1656)، وكذلك رواه محمد بن إسماعيل بن أبي فديك عند ابن سعد 6/ 360، والبخاري في "الأدب المفرد" (1183)، وكذلك خلّاد بن يحيى عند أبي محمد الفاكهي في "فوائده" (135)، وأبي نعيم في "الحلية" 2/ 35، وابن عساكر 13/ 193، وكذلك الحسن بن علي الرزاز القرشي عند ابن عساكر 13/ 192، وكذلك القاسم بن الحَكَم عند ابن عساكر أيضًا 13/ 193، خمستهم عن هشام بن سعد يذكرون الحَسَن بن علي وليس أخاه الحُسين.
🧩 متابعات: حماد الخیاط کی "حسن" کے ذکر پر ایک جماعت نے متابعت کی ہے: لیث بن سعد (مسند بزار 8155، آجری 1656)، محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک (ابن سعد 6/ 360، ادب المفرد 1183)، خلاد بن یحییٰ (فاکہی کے فوائد 135، حلیہ 2/ 35، ابن عساکر 13/ 193)، حسن بن علی الرزاز القرشی (ابن عساکر 13/ 192) اور قاسم بن الحکم (ابن عساکر 13/ 193)۔ یہ پانچوں راوی ہشام بن سعد سے "حسن بن علی" کا ذکر کرتے ہیں نہ کہ ان کے بھائی حسین کا۔
وانظر تمام تخريجه فيما تقدَّم برقم (4847).
📖 حوالہ: اس کی مکمل تخریج نمبر (4847) پر دیکھیں۔