المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
175. ومنهم خديجة بنت خويلد بن أسد بن عبد العزى رضي الله عنها
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہا ہیں
حدیث نمبر: 4893
أخبرني الحسين بن علي التميمي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسين، حدثنا عمرو بن زُرَارة، حدثنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان البَراء بن مَعْرُورٍ أولَ من ضرب على يد رسول الله ﷺ في البَيعة له ليلةَ العَقَبة في السبعين من الأنصار، فقام البَراء بن مَعْرُورٍ فَحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: الحمدُ لله الذي أكرمَنا بمحمد ﷺ وجاءنا به، وكنا (1) أول من أجاب، وآخرَ من دعا، فأجبنا الله ﷿ وسمعنا وأطعْنا، يا معشر الأوس والخزرج قد أكرمكم الله تعالى بديِنه، فإن أخذتُم السمْعَ والطاعةَ والمؤازرةَ بالشكر، فأطيعوا الله ورسوله، ثم جَلَسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنهم: خَديجة بنت خُوَيِلد بن أسَد بن عبد العُزّى ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4833 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنهم: خَديجة بنت خُوَيِلد بن أسَد بن عبد العُزّى ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4833 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جن ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عقبہ اولی کی شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، ان میں سب سے پہلے بیعت کرنے والے سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ اس رات کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد کہنے لگے: تمام تعریفیں ہیں اس ذات کے لئے جس نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے عزت بخشی، اور اس نے ان کو ہمارے پاس بھیجا۔ انہوں نے اس رات سب سے پہلے بیعت کی اور سب سے آخر میں دعا مانگی، پھر ہم نے اللہ عزوجل کے حکم کو مانا، سنا اور اس کی اطاعت کی، اے اوس اور خزرج کے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کے ساتھ عزت دی ہے، اگر شکر گزاری کرتے ہوئے اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، (یہ کہنے کے بعد) آپ بیٹھ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4893]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4893 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): وكان.
🔍 متن کا اختلاف: نسخہ (ز) اور (ب) میں "وکان" کا لفظ ہے۔
(2) إسناده حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطلبي - ويشهد لكون البراء بن معرور أول من ضرب على يد رسول الله ﷺ مبايعًا له حديث كعب بن مالك عند أحمد 25 / (15798) وغيره بإسناد حسن.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند "حسن" ہوتی اگر محمد بن اسحاق (ابن یسار المطلبی) کی "عنعنہ" نہ ہوتی۔ براء بن معرور کے سب سے پہلے بیعت کرنے کی تائید کعب بن مالک کی حدیث کرتی ہے جو احمد (25/ 15798) وغیرہ میں حسن سند کے ساتھ ہے۔
وأما مقالة البراء بن معرور المذكورة، فجاءت في رواية كعب بن مالك بلفظ مغاير، فإن صحَّ حديث ابن عبّاس حُمل على أنَّ البراء قال كلتا المقالتين، والله تعالى أعلم.
📌 تطبیق: براء بن معرور کی مذکورہ بات کعب بن مالک کی روایت میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ اگر ابن عباس کی حدیث صحیح ہو تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ براء نے دونوں باتیں کہی تھیں، واللہ اعلم۔
وقد أورد ابن سعد في "طبقاته" 3/ 571 مثل هذه الرواية التي هنا في مقالة البراء بن معرور، لكن بغير إسناد.
📖 تخریج: ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 571) میں براء بن معرور کی بات کے حوالے سے یہاں موجود روایت جیسی ہی روایت نقل کی ہے، لیکن وہ "بغیر سند" کے ہے۔