🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
175. وَمِنْهُمْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہا ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4893
أخبرني الحسين بن علي التميمي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسين، حدثنا عمرو بن زُرَارة، حدثنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان البَراء بن مَعْرُورٍ أولَ من ضرب على يد رسول الله ﷺ في البَيعة له ليلةَ العَقَبة في السبعين من الأنصار، فقام البَراء بن مَعْرُورٍ فَحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: الحمدُ لله الذي أكرمَنا بمحمد ﷺ وجاءنا به، وكنا (1) أول من أجاب، وآخرَ من دعا، فأجبنا الله ﷿ وسمعنا وأطعْنا، يا معشر الأوس والخزرج قد أكرمكم الله تعالى بديِنه، فإن أخذتُم السمْعَ والطاعةَ والمؤازرةَ بالشكر، فأطيعوا الله ورسوله، ثم جَلَسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنهم: خَديجة بنت خُوَيِلد بن أسَد بن عبد العُزّى ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4833 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے شخص تھے جنہوں نے لیلۃ العقبیٰ کے موقع پر انصار کے ستر افراد کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، پس براء بن معرور کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے عزت بخشی اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں (رہبر) عطا کیا، ہم پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہنے والے اولین اور پکارے جانے والے آخری لوگ تھے، ہم نے اللہ عزوجل کی دعوت قبول کی اور سمع و طاعت کا مظاہرہ کیا، اے گروہِ اوس و خزرج! یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کے ذریعے معزز کیا ہے، لہٰذا اگر تم شکر گزاری کے ساتھ سمع و طاعت اور تعاون و نصرت کا عہد کرتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو،“ پھر وہ بیٹھ گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4893]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطلبي - ويشهد لكون البراء بن معرور أول من ضرب على يد رسول الله ﷺ مبايعًا له حديث كعب بن مالك عند أحمد 25 / (15798) وغيره بإسناد حسن.» [ترقيم الرساله 4893] [ترقيم الشركة 4861] [ترقيم العلميه 4833]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4893 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): وكان.
🔍 متن کا اختلاف: نسخہ (ز) اور (ب) میں "وکان" کا لفظ ہے۔
(2) إسناده حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطلبي - ويشهد لكون البراء بن معرور أول من ضرب على يد رسول الله ﷺ مبايعًا له حديث كعب بن مالك عند أحمد 25 / (15798) وغيره بإسناد حسن.
⚖️ درجۂ سند: یہ سند "حسن" ہوتی اگر محمد بن اسحاق (ابن یسار المطلبی) کی "عنعنہ" نہ ہوتی۔ براء بن معرور کے سب سے پہلے بیعت کرنے کی تائید کعب بن مالک کی حدیث کرتی ہے جو احمد (25/ 15798) وغیرہ میں حسن سند کے ساتھ ہے۔
وأما مقالة البراء بن معرور المذكورة، فجاءت في رواية كعب بن مالك بلفظ مغاير، فإن صحَّ حديث ابن عبّاس حُمل على أنَّ البراء قال كلتا المقالتين، والله تعالى أعلم.
📌 تطبیق: براء بن معرور کی مذکورہ بات کعب بن مالک کی روایت میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ اگر ابن عباس کی حدیث صحیح ہو تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ براء نے دونوں باتیں کہی تھیں، واللہ اعلم۔
وقد أورد ابن سعد في "طبقاته" 3/ 571 مثل هذه الرواية التي هنا في مقالة البراء بن معرور، لكن بغير إسناد.
📖 تخریج: ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 571) میں براء بن معرور کی بات کے حوالے سے یہاں موجود روایت جیسی ہی روایت نقل کی ہے، لیکن وہ "بغیر سند" کے ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4893 in Urdu