🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
183. سيدات نساء أهل الجنة أربع
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزيٰ رضی اللہ عنہا ہیں — جنتی عورتوں کی سردار چار ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4915
أخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لم يتزوّج النبيُّ ﷺ على خِديجةَ حتى ماتت قالت عائشة: ما رأيتُ خديجةَ قطُّ، ولا غِرتُ على امرأةٍ من نسائه أشدَّ من غَيْرتي على خديجةَ، وذلك مِن كَثْرة ما كان يَذُكرها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو کبھی دیکھا نہ تھا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے سب زیادہ رشک بھی مجھے انہی پر آتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4915]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4915 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناد صحيح. عبد الرزاق: هو ابن همّام، ومعمر: هو ابن راشد، والزُّهْري: هو محمد بن مسلم بن عُبيد الله، وعروة: هو ابن الزبير بن العوام.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راویوں کی تعیین یہ ہے: عبدالرزاق سے مراد "عبدالرزاق بن ہمام" ہیں، معمر سے مراد "معمر بن راشد" ہیں، زہری سے مراد "محمد بن مسلم بن عبید اللہ" ہیں، اور عروہ سے مراد "عروہ بن زبیر بن عوام" ہیں۔
وأخرجه مسلم (2435) و (2436) عن عبد بن حميد، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2435) اور (2436) میں عبد بن حمید سے، انہوں نے عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: لہٰذا امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کا ذہول (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ تو صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
وانظر ما قبله.
📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پچھلی روایت ملاحظہ کریں۔