المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
184. ذكر مناقب أسعد بن زرارة بن عدس بن عبيد بن ثعلبة بن غنم بن مالك بن النجار رضى الله عنه
سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سب سے پہلے جنت البقیع میں دفن ہونے والے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 4916
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا جعفر بن سُليمان، عن ثابت، عن أنس قال: جاءَ جبريلُ ﵇ إلى النبي ﷺ وعنده خديجةُ، فقال: إنَّ الله يُقرئ خديجةَ السلامَ، فقالت: إنَّ الله هو السلامُ وعليك السلام ورحمة الله (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر مناقب أسعد بن زُرارة بن عُدَسَ بن عُبَيد بن ثَعلَبة بن غَنْم بن مالك بن النَّجّار ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4856 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر مناقب أسعد بن زُرارة بن عُدَسَ بن عُبَيد بن ثَعلَبة بن غَنْم بن مالك بن النَّجّار ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4856 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں، سیدنا جبریل امین علیہ السلام بولے: اے خدیجہ رضی اللہ عنہا! اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام بھیجا ہے، تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے جواباً فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ (کا نام) سلام ہے اور (اے جبریل علیہ السلام) تم پر بھی سلامی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4916]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4916 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن، قيس بن أُنَيف روى عنه جمع من أهل بُخارى، ولم يؤثر فيه جرح ولا تعديل، وهو متابع، وجعفر بن سليمان - وهو الضُّبَعي - صدوق لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "قیس بن انیف" سے بخارا کے ایک جم غفیر نے روایت کیا ہے، اور ان پر کوئی جرح یا تعدیل منقول نہیں، لیکن وہ متابع (Followed up) ہیں۔ اور "جعفر بن سلیمان" (جو کہ ضبعی ہیں) صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)۔
وأخرجه النسائي (8301) و (10134) من طريق عبد الرزاق، عن جعفر بن سليمان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کی تخریج امام نسائی نے (8301) اور (10134) میں عبدالرزاق کے طریق سے کی ہے، جنہوں نے جعفر بن سلیمان سے روایت کیا ہے۔
بلفظ: فقالت: إنَّ الله هو السلام، وعلى جبريل السلام، وعليك السلام ورحمة الله وبركاته.
🧾 تفصیلِ روایت: نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: "تو انہوں (خدیجہ) نے کہا: بیشک اللہ ہی السلام ہے، اور جبرائیل پر سلام ہو، اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔"
ولإقراء الله تعالى خديجة السلام دون جوابها شاهدٌ من حديث أبي هريرة تقدَّم برقم (4911).
🧩 متابعات و شواہد: اللہ تعالیٰ کی طرف سے خدیجہ کو سلام بھیجنے (بغیر جواب کے ذکر کے) پر ایک شاہد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے موجود ہے جو پیچھے نمبر (4911) پر گزر چکی ہے۔