🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. خلع النعال فى الصلاة
نماز میں جوتے اتارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 492
حدَّثَناه محمد بن صالح وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا علي بن عبد العزيز؛ قالا: حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا أبو حمزة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود قال: خَلَع النبيُّ ﷺ نعلَه [وهو يصلي، فخلعَ مَن خلفَه نعالَهم، فقال:"ما حَمَلَكم على خلع نعالِكم؟" قالوا: رأيناك خلعتَ فخلعنا] فقال:"إنَّ جبريلَ أخبرني أنَّ [في أحدهما قَذَرًا، فخلعتُهما لذلك، فلا تَخلَعوا نعالَكم] (1) " (2) .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اپنے جوتے اتار دیے تو آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے ابھارا؟ انہوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جبرائیل نے مجھے بتایا کہ ان میں سے ایک میں گندگی لگی ہے، اس لیے میں نے انہیں اتارا، پس تم (بغیر وجہ کے) اپنے جوتے نہ اتارا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 492]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 492 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) مكان ما بين المعقوفين في الموضعين بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں دو مقامات پر بریکٹس والی جگہ خالی تھی، جسے ہم نے تخریج کے دیگر مآخذ سے مکمل کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (9972) عن علي بن عبد العزيز وآخر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (9972) میں علی بن عبدالعزیز اور ایک دوسرے راوی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (1570)، والطحاوي في "معاني الآثار" 1/ 511، والطبراني في "الأوسط" (5017) من طرق عن أبي غسان مالك بن إسماعيل، به. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (1570)، طحاوی "معانی الآثار" 1/ 511 اور طبرانی "الاوسط" (5017) نے ابو غسان مالک بن اسماعیل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ اس حوالے سے پچھلی بحث بھی ملاحظہ کریں۔
(2) صحيح لغيره، وإسناده ضعيف لضعف أبي حمزة ميمون الأعور.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، تاہم اس کی اپنی سند ابو حمزہ میمون الاعور کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔