المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
191. ذكر مناقب عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة
سیدنا عثمان بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — جنت البقیع میں سب سے پہلے دفن ہونے والے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 4928
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن سعد، عن محمد بن عمر قال: حدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن عاصم بن عُبيد الله (2) ، عن عُبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يَرتادُ لأصحابِه مَقبَرَةً يُدفَنون فيها، فكان قد طلبَ نواحيَ المدينة وأطرافَها، ثم قال:"أُمرتُ بهذا المَوِضع". يعني البَقيع، وكان يُقال: بَقيعُ الخَبْخَبة، وكان أكثرَ نباته الغَرقدُ، وكان أولَ من قُبر هناك عثمانُ بن مظعون، فَوَضَعَ رسولُ الله حَجَرًا عند رأسِه وقال:"هذا قبرُ فَرَطِنا"، وكان إذا مات المُهاجِرُ بعده قيلَ: يا رسول الله، أين نَدفِنُه؟ فيقول:"عند فَرَطنا عثمان بن مظعونٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4867 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4867 - سنده واه
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے لئے کسی قبرستان کی تلاش میں تھے جہاں پر وہ اپنے فوت شدگان کی تدفین کیا کریں، آپ مدینہ منورہ کے گردونواح میں اس جگہ کی تلاش میں تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس جگہ (یعنی بقیع) کا حکم دیا گیا ہے۔ (اس کو بقیع الخبخبہ بھی کہتے ہیں) اس مقام پر اکثر طور پر غرقد نامی درخت اگتا تھا (اسی لئے اس کو بقیع الغرقد بھی کہا جاتا ہے) اس قبرستان میں سب سے پہلے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی، بعد از تدفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نشانی کے طور پر) ان کے سرہانے کی جانب ایک اینٹ رکھ دی، اور فرمایا: یہ ہمارے قاصد کی قبر ہے۔ اس کے بعد جب کبھی کسی مہاجر کا انتقال ہوتا تو لوگ پوچھتے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کو کہاں دفن کریں؟ تو آپ فرماتے: ہمارے قاصد، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے قریب۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4928]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4928 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في أصولنا الخطية إلى: عبد الله، مكبَّرًا، ضبَّب فوقها في (ز)، والمثبت من نسخة بهامش (ص).
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کے ساتھ "عبد اللہ" (اسمِ مکبر) لکھا گیا ہے، اور نسخہ (ز) میں اس پر علامتِ تضبیب (شک کی علامت) لگائی گئی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: متن میں درست نام کا اثبات نسخہ (ص) کے حاشیے سے کیا گیا ہے۔
(1) إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذلك من أجل أبي بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، فهو متروك واتهمه أحمد بن حنبل بوضع الحديث، وشيخُه عاصمٌ ضعيف، ومحمد بن عمر وهو الواقدي - فيه كلام معروف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ امام ذہبی نے "تلخیص" میں صراحت کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس ضعف کی وجہ ابوبکر بن عبد اللہ بن ابی سبرہ ہے، جو کہ "متروک" راوی ہے اور امام احمد بن حنبل نے اس پر حدیث گھڑنے (وضع) کی تہمت لگائی ہے۔ نیز اس کا شیخ عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے، اور محمد بن عمر الواقدی کے بارے میں محدثین کا کلام معروف (جرح شدید) ہے۔
والخبر عند محمد بن سعد في "طبقاته الكبرى" 3/ 397 عن محمد بن عمر الواقدي، مرسلٌ، ليس فيه ذكر أبي رافع في إسناده.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت محمد بن سعد کی "طبقات الکبری" (3/ 397) میں محمد بن عمر الواقدی کے طریق سے موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ روایت وہاں "مرسل" ہے، اس کی سند میں حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کا ذکر موجود نہیں ہے۔
وقد اختلف في أول من دُفن بالبقيع من أصحابه ﷺ، فانظر ما سلف برقم (4918).
📌 اہم نکتہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جنت البقیع میں سب سے پہلے دفن ہونے والے شخصیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس مسئلے کی تفصیل کے لیے سابقہ حدیث نمبر (4918) ملاحظہ فرمائیں۔
والفَرَطُ: المتقدِّم.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "الفَرَط" کا لغوی معنی "آگے جانے والا" یا "پیش رو" ہے (جو استقبال یا انتظام کے لیے پہلے پہنچ جائے)۔