🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

191. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ
سیدنا عثمان بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — جنت البقیع میں سب سے پہلے دفن ہونے والے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4927
أخبرني الحسن بن محمد الحَليمي (3) بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا رجلٌ، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هِلال، أنَّ سليمان بن أبان حدثه: أنَّ رسول الله ﷺ لما خرج إلى بدرٍ أراد سعدُ بن خَيثمة وأبوه جميعًا الخروجَ معه، فذُكِر ذلك للنبيِّ ﷺ، فأمر أن يَخْرُجَ أحدُهما، فاستَهَما، فقال خيثمةُ بن الحارث لابنه سعدٍ: إنه لا بدَّ لأحدِنا من أن يُقيم، فأقِمْ مع نسائك، فقال سعدٌ: لو كان غيرُ الجنة آثرتُك به إني أرجُو الشهادةَ في وجهي هذا. فاستَهَما، فخرج سهمُ سعدٍ، فخرجَ مع رسول الله ﷺ إلى بدرٍ، فقتله عمرو بن عبد وَدٍّ (4) . ذِكرُ (1) مناقب عُثمانَ بن مَظْعُون بن حَبيب بن وهب بن حُذافة وكنيته أبو السائب هاجر الهِجرتَين، وشهد بدرًا، ومات بعد بدر بأشهُرٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4866 - مرسل وإسناده ضعيف
سیدنا سلیمان بن ابان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان بدر کی جانب روانہ ہوئے تو سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد دونوں ہی جہاد پرجانا چاہتے تھے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جہاد پر جا سکتا ہے اس لئے تم قرعہ اندازی کرو۔ سیدنا خیثمہ بن الحارث رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: عورتوں کے پاس بھی کسی کا ٹھہرنا ضروری ہے اس لئے تم گھر میں رک جاؤ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر جنت کا معاملہ نہ ہوتا تو میں آپ کو اپنے آپ پر ترجیح دے دیتا۔ لیکن میں اسی جنگ میں شہادت کا طلبگار ہوں۔ تب ان دونوں میں قرعہ اندازی ہوئی اور قرعہ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا نام نکلا، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ اور عمرو بن عبدود نے ان کو شہید کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4927]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4928
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن سعد، عن محمد بن عمر قال: حدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن عاصم بن عُبيد الله (2) ، عن عُبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يَرتادُ لأصحابِه مَقبَرَةً يُدفَنون فيها، فكان قد طلبَ نواحيَ المدينة وأطرافَها، ثم قال:"أُمرتُ بهذا المَوِضع". يعني البَقيع، وكان يُقال: بَقيعُ الخَبْخَبة، وكان أكثرَ نباته الغَرقدُ، وكان أولَ من قُبر هناك عثمانُ بن مظعون، فَوَضَعَ رسولُ الله حَجَرًا عند رأسِه وقال:"هذا قبرُ فَرَطِنا"، وكان إذا مات المُهاجِرُ بعده قيلَ: يا رسول الله، أين نَدفِنُه؟ فيقول:"عند فَرَطنا عثمان بن مظعونٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4867 - سنده واه
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے لئے کسی قبرستان کی تلاش میں تھے جہاں پر وہ اپنے فوت شدگان کی تدفین کیا کریں، آپ مدینہ منورہ کے گردونواح میں اس جگہ کی تلاش میں تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس جگہ (یعنی بقیع) کا حکم دیا گیا ہے۔ (اس کو بقیع الخبخبہ بھی کہتے ہیں) اس مقام پر اکثر طور پر غرقد نامی درخت اگتا تھا (اسی لئے اس کو بقیع الغرقد بھی کہا جاتا ہے) اس قبرستان میں سب سے پہلے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی، بعد از تدفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نشانی کے طور پر) ان کے سرہانے کی جانب ایک اینٹ رکھ دی، اور فرمایا: یہ ہمارے قاصد کی قبر ہے۔ اس کے بعد جب کبھی کسی مہاجر کا انتقال ہوتا تو لوگ پوچھتے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کو کہاں دفن کریں؟ تو آپ فرماتے: ہمارے قاصد، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے قریب۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4928]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4929
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عُبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عائشة قالت: قَبّلَ رسولُ الله ﷺ عثمانَ بن مَطْعُون بعدما ماتَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4868 - سنده صالح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کا بوسہ لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4929]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں