🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
198. مبارزة حمزة وعبيدة وعلي مع الكفار يوم بدر
غزوۂ بدر کے دن کفار کے ساتھ سیدنا حمزہ، سیدنا عبیدہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کا مقابلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4942
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: لما أُصيبَ حمزةُ جَعَلَ رسولُ الله ﷺ يقولُ:"لن أُصابَ بمثلِك أبدًا"، ثم قال لفاطمة ولِعمَّتِه صفيّة:"أبشرا، أتاني جِبريلُ ﵇، فأخبَرَني أنَّ حمزةَ مَكتوبٌ في أهلِ السماوات: حمزةُ بنُ عبد المُطَّلب أَسَدُ اللهِ وأَسَدُ رسولِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4881 - حذفه الذهبي من التلخيص
محمد بن عمر اپنے اساتذہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری طرح کبھی کوئی شہید نہیں ہو گا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اپنی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم خوش ہو جاؤ کیونکہ میرے پاس سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے تھے، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ حمزہ کو آسمانوں میں حمزہ بن عبدالمطلب اسداللہ و اسد رسولہ (اللہ اور اس کے رسول کے شیر) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4942]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4942 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن عمر - وهو ابن واقد الواقدي - ففيه مقالٌ معروف، ولا يُعرف عن أيّ شيوخه حمل هذا الخبر، على أنه وإن عُرف عمن حمله يبقى فيه علَّة الإرسال أو الإعضال، ولم يُرو هذا الخبر من وجه آخر يُعتدُّ به.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند محمد بن عمر - جو کہ ابن واقد الواقدی ہے - کی وجہ سے "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے، اس میں معروف کلام ہے، اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے اپنے کن شیوخ سے یہ خبر لی ہے، اور اگر وہ راوی معلوم بھی ہو جائے تب بھی اس میں "ارسال" یا "اعضال" (انقطاع) کی علت باقی رہے گی، اور یہ خبر کسی اور قابلِ اعتماد طریق سے مروی نہیں ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 290. وذكره ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 96 بغير إسنادٍ.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مغازی الواقدی": 1/ 290 میں موجود ہے، اور اسے ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ": 2/ 96 میں بغیر سند کے ذکر کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (4959) من طريق يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة عن جده.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف کے ہاں عنقریب نمبر (4959) کے تحت یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ کے طریق سے، ان کے دادا سے آئے گی۔
وإسناده ضعيف جدًّا.
⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند (بھی) "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔