المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
198. مبارزة حمزة وعبيدة وعلي مع الكفار يوم بدر
غزوۂ بدر کے دن کفار کے ساتھ سیدنا حمزہ، سیدنا عبیدہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کا مقابلہ
حدیث نمبر: 4943
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضَرِّبٍ، عن عليٍّ، قال: قال لي رسولُ الله ﷺ:"نادِ حمزةَ فكان أقربَهم إلى المشركين -: مَن صاحبُ الجملِ الأحمَر، وماذا يقول لهم" ثم قال رسول الله ﷺ:"إن يكن في القوم أحدٌ يأمرُ بخيرٍ، فعسى يكونُ صاحبَ الجملِ الأحمرِ"، فقال لي حمزةُ: هو عُتبة بن ربيعة، وهو يَنْهى عن القتالِ، وهو يقولُ: يا قومِ، إني أرى قَومًا لا تَصِلُون إليهم وفيكم خيرٌ، يا قومِ اعِصبُوها اليومَ بي، وقولوا: جَبُنَ عُتبةٌ بن رَبيعة، ولقد علمتُم أني لستُ بأجبَنِكم، فسمعَ بذلك أبو جَهْل، فقال: أنت تقولُ هذا؟! لو غيرُك قال قد مُلِئتَ رُعبًا، فقال: إيايَ تعني يا مُصفِّرَ استِه؟! قال: فَبَرَزَ عُتبةُ وأخوه شَيْبَةُ وابنه الوليدُ، فقالوا: من يُبارِزُ؟ فخرج فِتيةٌ من الأنصار شَبَةٌ، فقال عتبةُ: لا نريدُ هؤلاءِ، ولكن يُبارِزُنا من أعمام بني عبد المطّلب؟ فقال رسول الله ﷺ:"قُمْ يا حمزةُ، قُمْ يا عُبيدةُ، قم يا عليٌّ"، فبَرَزَ حمزةُ لِعُتبة، وعُبيدةُ لشَيْبة، وعليٌّ للوليد، فقَتَل حمزةُ عُتبةَ، وقَتَل عليٌّ الوليد، وقَتَل عُبيدةُ شَيْبَةَ، وَضَرَبَ شَيْبَةٌ رِجلَ عُبيدةَ فقطَعها، فاستنقذَه حمزةُ وعليٌّ، حتى تُوفِّي بالصَّفْراء (1) . صحيح علي شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4882 - لم يخرجا لحارثة وقد وهاه ابن المديني
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4882 - لم يخرجا لحارثة وقد وهاه ابن المديني
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: حمزہ کو آواز دو، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پورے لشکر میں سرخ اونٹ والے (جد بن قیس منافق) کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: وہ عتبہ بن ربیعہ ہے اور وہ قتال سے بچ رہا ہے اور وہ کہہ رہا ہے: اے میری قوم! میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں، جن تک تم نہیں پہنچ سکتے، اور تمہارے اندر بھلائی ہے۔ اے میری قوم! تم سب میرے گرد جمع ہو جاؤ اور کہو کہ عتبہ بن ربیعہ نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ تم یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں۔ یہ بات ابوجہل نے سن لی اور بولا: تم یہ بات کہہ رہے ہو؟ کاش کہ تیرے علاوہ کوئی دوسرا شخص یہ بات کہتا، تو مرعوب ہو چکا ہے۔ عتبہ بن ربیعہ نے کہا: اے زرد چوتڑوں والے تو مجھے یہ بات کہہ رہا ہے؟ اس کے بعد عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان جنگ میں نکلے اور کہنے لگے: ہمارا مقابلہ کون کرے گا؟ تو ایک انصاری جوان نکل کر سامنے آ گیا۔ عتبہ نے کہا: ہم ان سے نہیں لڑیں گے یہ بتاؤ کہ بنی عبدالمطلب میں سے کون ہمارا مقابلہ کرے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمزہ رضی اللہ عنہ تم اٹھو، اے عبیدہ رضی اللہ عنہ تم اٹھو، اے علی رضی اللہ عنہ تم اٹھو۔ چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مقابلہ عتبہ سے ہوا، سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ کا مقابلہ شیبہ سے ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مڈبھیڑ ولید سے ہوئی۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ کو قتل کر ڈالا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولید کو واصل جہنم کیا اور سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو قتل کیا، لیکن شیبہ نے سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر ایک کاری وار کیا تھا جس سے ان کی پنڈلی کٹ گئی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی مدد کی۔ بعد میں (جنگ بدر سے واپسی پر) مقام صفراء میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4943]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4943 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، لكن اختُلف في ذكر الخصوم كما تقدَّم بيانه برقم (4923)، فبعضهم يذكر عُتبة بن ربيعة في مقابل عُبيدة بن الحارث وشيبة بن ربيعة في مقابل حمزة بن عبد المطّلب. ولكن ما جاء في هذه الرواية هو الأكثر والأشهر إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو إسحاق في الإسناد هو جدُّه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن مد مقابل (خصم) کے تعین میں اختلاف ہے جیسا کہ نمبر (4923) میں بیان ہوا؛ بعض نے عتبہ بن ربیعہ کو عبیدہ بن حارث کے مقابلے میں اور شیبہ بن ربیعہ کو حمزہ بن عبدالمطلب کے مقابلے میں ذکر کیا ہے، لیکن جو تفصیل اس روایت میں ہے وہی "اکثر" اور "اشہر" ہے۔ 🔍 اسماء الرجال: (سند میں موجود) اسرائیل سے مراد ابن یونس بن ابی اسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں، اور سند میں موجود ابو اسحاق ان کے دادا ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أبو داود (2665) من طريق عثمان بن عمر العَبْدي، عن إسرائيل، بهذا الإسناد. غير أنه ذكر عليًّا في مقابل شيبة، وعُبَيدة في مقابل الوليد بن عُتبة. وما عند المُصنِّف أولى وأثبتُ كما نبهنا عليه برقم (4923). وأخرجه أحمد 2 / (948) عن حجاج بن محمد المصّيصي الأعور، عن إسرائيل، به. لكنه قال في روايته: فقتل الله تعالى عُتبة وشيبة ابني ربيعة، والوليد بن عُتبة، وجُرح عُبيدة. كذا لم يذكر مَن قتل كُلًا من المذكورين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً ابو داؤد: (2665) نے عثمان بن عمر العبدی کے طریق سے، انہوں نے اسرائیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر انہوں نے علی ؓ کو شیبہ کے مقابلے میں اور عبیدہ کو ولید بن عتبہ کے مقابلے میں ذکر کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: جو تفصیل مصنف (حاکم) کے ہاں ہے وہی اولیٰ اور اثبت (زیادہ صحیح) ہے جیسا کہ ہم نے نمبر (4923) پر تنبیہ کی۔ اسے مسند احمد: 2/ (948) میں حجاج بن محمد... نے اسرائیل سے روایت کیا ہے لیکن ان کے الفاظ یہ ہیں: "پس اللہ نے عتبہ و شیبہ (پسرانِ ربیعہ) اور ولید بن عتبہ کو قتل کروا دیا اور عبیدہ زخمی ہوئے"، یوں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کس نے کس کو قتل کیا۔
وقوله: مُصفِّر استه، كلمة تقال للمتنعِّم الذي لم تُحنِّكه التجارب والشدائد، وهي من الصفير، وهو الصوت بالفم والشفتين وكأنه قال: يا ضرّاط نسبة إلى الجُبن والخور، أو أنه رماه بالأُبنة، وأنه كان يُزعفِر استَه.
🔍 فنی نکتہ / لغت: عبارت "مُصفِّر استه" (پیلی سرین والا/ سرین سے سیٹی بجانے والا): یہ کلمہ ایسے ناز و نعم میں پلے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جسے تجربات اور سختیوں نے مضبوط نہ بنایا ہو، یہ "الصیفر" سے ماخوذ ہے جو کہ منہ اور ہونٹوں سے نکلنے والی آواز (سیٹی) ہے۔ گویا کہنے والے نے کہا: "اے پادنے والے!" (کنایۃً) بزدلی اور کمزوری کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ یا پھر اس نے اسے "اُبنہ" (مفعولیت/بدفعلی) کا طعنہ دیا کہ وہ اپنی سرین کو زعفران لگاتا ہے۔