المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
202. استشهد حمزة يوم أحد وهو ابن أربع وخمسين سنة
سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد کے دن چون برس کی عمر میں شہید ہوئے
حدیث نمبر: 4955
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا خالد بن خِدَاش، حدثنا صالح المُرِّي، عن سليمان التَّيمي، عن أبي عثمان النَّهدي عن أبي هريرة: أنَّ النبيَّ ﷺ يومَ أحد نظر إلى حمزةَ وقد قُتل ومُثَّل به، فرأى منظرًا لم يَرَ منظرًا قطُّ أوجعَ لقِلبْه منه ولا أوجَلَ، فقال:"رحمةُ الله عليك، قد كنتَ وَصُولًا للرَّحِم، فَعولًا للخيرات، ولولا حُزنُ مَن بَعدَك عليك لَسَرَّني أن أدَعَك حتى تُحْيا من أفواجٍ شتّى"، ثم حَلَف وهو واقفٌ مكانَه:"والله لأُمثِّلنَّ بسبعينَ منهم مكانك" فنزلَ القرآنُ وهو واقفٌ في مكانِه لم يَبْرَح: ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النحل: 126] ، حتى ختمَ السورةَ، وكَفَّر رسولُ الله ﷺ وأمسكَ عما أرادَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4894 - صالح واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4894 - صالح واه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دوران سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا اس وقت وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے ناک، کان وغیرہ کاٹ دیئے گئے تھے۔ ایسا تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا منظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قبل کبھی نہ دیکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے، تم صلہ رحمی کرنے والے ہو، نیکیاں کرنے والے ہو، اگر تمہارے بعد تیرے حوالے غم کی فکر نہ ہوتی تو میری خوشی اس بات میں تھی کہ تجھے اسی طرح چھوڑ دیتا حتی کہ قیامت کے دن تمہیں مختلف مونہوں سے جمع کیا جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں پر کھڑے ہوئے یہ قسم کھائی ” خدا کی قسم، ان کے بدلے میں ستر آدمیوں کا مثلہ (ناک، کان وغیرہ اعضاء کاٹنا) کروں گا “ یہ قسم کھا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی اسی جگہ کھڑے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْرٌ لِلصَّابِرِیْنَ۔ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَلَاتَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ (النحل: 128، 127، 126) ” اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو، بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں “۔” اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا جیسی تکلیف تمہیں پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بے شک صبر کرنے والوں کو صبر سب سے اچھا۔ اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو۔ بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارادے سے رجوع فرمایا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4955]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4955 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وانظر حديث أبيّ بن كعب المتقدم برقم (3408) و (3708)
📖 حوالہ / مصدر: اور ابی بن کعب ؓ کی حدیث دیکھیں جو نمبر (3408) اور (3708) میں گزر چکی۔
(2) إسناده ضعيف لضعف صالح المُرِّي - وهو ابن بشير - ولبعض حروفه شواهد صحيحة. وأخرجه الطبراني في "الكبير" (2937) عن محمد بن أحمد بن النضر الأزدي، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن سعد 3/ 12، والبزار (9530)، وابن المنذر في "تفسيره" (1065)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 183، وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات" (169 - 171) و (254)، وأبو بكر الآجري في "الشريعة" (1725)، والطبراني في "الكبير" (2937)، وابن عدي في "الكامل" 4/ 63، وأبو طاهر الذهبي في "المخلِّصيات" (1967)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1830)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9253)، وأبو نعيم في "دلائل النبوة" 3/ 288 و 289، وأبو الحسن الواحدي في "أسباب النزول" (571)، وأبو القاسم الأصبهاني في "سير السلف الصالحين" ص 354 - 355، وابن الجوزي في "المنتظم" 3/ 182، وابن سيد الناس في "عيون الأثر" 2/ 29 من طرق عن صالح بن بشير المري، به.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صالح المری - جو کہ ابن بشیر ہے - کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے، البتہ اس کے بعض الفاظ کے لیے صحیح شواهد موجود ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر": (2937) میں محمد بن احمد بن النضر الازدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ابن سعد: 3/ 12، بزار: (9530)، ابن المنذر نے "تفسیر": (1065)، طحاوی نے "شرح معانی الآثار": 3/ 183، ابو بکر الشافعی نے "الغيلانيات": (169-171) و (254)، آجری نے "الشریعہ": (1725)، طبرانی نے "الکبیر": (2937)، ابن عدی نے "الکامل": 4/ 63، ابو طاہر الذہبی نے "المخلصيات": (1967)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ": (1830) اور "دلائل النبوۃ": 3/ 288 و 289، بیہقی نے "شعب الایمان": (9253)، واحدی نے "اسباب النزول": (571)، ابو القاسم الاصبہانی نے "سیر السلف": ص 354-355، ابن الجوزی نے "المنتظم": 3/ 182 اور ابن سید الناس نے "عیون الاثر": 2/ 29 میں مختلف طرق سے صالح بن بشیر المری سے روایت کیا ہے۔
ولذكر تمثيل المشركين بحمزة شواهد تقدَّم ذكرها عند الحديث السابق.
🧩 متابعات و شواہد: مشرکین کی جانب سے حمزہ ؓ کا مثلۂ کرنے کے ذکر پر شواہد موجود ہیں جن کا ذکر پچھلی حدیث کے تحت گزر چکا۔
ولقوله ﷺ: "لولا حزنُ مَن بعدك .... " شاهدٌ من حديث أنس بن مالك الذي تقدَّم عند المصنف بالأرقام (1367) و (2595) و (4948)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے اس فرمان: "اگر تیرے بعد والوں کے غمگین ہونے کا ڈر نہ ہوتا..." کا شاہد انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (1367)، (2595) اور (4948) میں گزر چکی، اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وآخر من حديث ابن عباس الآتي بعده.
🧾 تفصیلِ روایت: اور ایک اور شاہد ابن عباس ؓ کی حدیث سے ہے جو اس کے بعد آ رہی ہے۔
ولقَسَمه ﷺ أن يمثّل في عدد من المشركين كما مثَّلوا بحمزة ونزول الآية، شاهد من حديث ابن عباس عند أبي جعفر النحاس في "الناسخ والمنسوخ" ص 541، والطبراني في "الكبير" (11051) بإسنادين حسنين، لكن لفظه: "لأمثّلن بثلاثين".
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کی اس قسم کہ آپ مشرکین کی ایک تعداد کا ویسا ہی مثلۂ کریں گے جیسا انہوں نے حمزہ ؓ کا کیا، اور اس پر آیت کے نازل ہونے کا شاہد ابن عباس ؓ کی حدیث ہے جو ابو جعفر النحاس کی "الناسخ والمنسوخ": ص 541 اور طبرانی کی "الکبیر": (11051) میں "دو حسن سندوں" کے ساتھ موجود ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: "میں (ان کے) تیس آدمیوں کا مثلۂ کروں گا"۔