🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
225. قال النبى لجعفر : " أشبهت خلقي وخلقي "
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمانا: تم صورت اور سیرت میں مجھ سے مشابہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5002
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم بن سُنَين (1) ، حَدَّثَنَا المنذر بن عمار بن حبيب بن حسان، حَدَّثَنَا مَعْمَر (2) بن زائدة الأسَدي الكوفي قائدُ الأعمش، عن الأعمش، عن أبي صالح عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"رأيتُ أني دخلتُ الجنةَ فرأيت لجعفرٍ درجةً فوق درجةِ زَيدٍ، فقلتُ: ما كنتُ أظنُّ أنَّ زيدًا بدونِ أَحدٍ، فقيل: يا محمدُ، تدري بِمَ رُفعَتْ درجةُ جعفرٍ؟ قال: قلت: لا، قال: لِقرابةِ ما بينَك وبينَه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4938 - منكر وإسناده مظلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے (خواب میں) دیکھا جیسا کہ میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں جعفر رضی اللہ عنہ کا مقام، زید رضی اللہ عنہ کے مقام سے بھی بلند دیکھا، میں نے کہا: میرا تو خیال تھا کہ زید کا مرتبہ کسی سے کم نہیں ہو گا، تو مجھے بتایا گیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ جانتے ہیں کہ جعفر رضی اللہ عنہ کا مقام کس وجہ سے اونچا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو مجھے بتایا گیا کہ آپ کے ساتھ رشتہ داری کی وجہ سے۔ (سبحان اللہ) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5002]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5002 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ص) و (م) و (ع) إلى: سفين، بالفاء بدلٌ النون. وإنما هو بالنون، وهو الخُتَّلي.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص)، (م) اور (ع) میں یہ نام تحریف ہو کر "سفین" (ف کے ساتھ) بن گیا تھا، جبکہ درست "سنین" (ن کے ساتھ) ہے، اور وہ "الختلی" ہیں۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: معن. وإنما هو معمر بن زائدة.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "معن" بن گیا تھا، جبکہ درست "معمر بن زائدہ" ہے۔
(3) إسناده ضعيف بمرَّة لضعف إسحاقَ بن إبراهيم بن سُنَين، ولضعف معمرِ بن زائدة أيضًا، فقد قال عنه العُقيلي في "الضعفاء الكبير" الترجمة (1796): لا يُتابع على حديثه، ولهذا ضعَّف الذهبيُّ في "تلخيصه" هذا الإسناد، وأنكر الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند اسحاق بن ابراہیم بن سنین اور معمر بن زائدہ کے ضعف کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے۔ معمر کے بارے میں عقیلی نے "الضعفاء الکبیر": (1796) میں کہا: "اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی"۔ اسی لیے ذہبی نے "التلخیص" میں اس سند کو ضعیف قرار دیا اور حدیث کو منکر کہا۔
وقد رُوي نحو هذا الحديث عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب منقطعًا عند الواقدي في "مغازيه" 2/ 762، ومن طريقه أخرجه ابن سعد في "طبقاته" 4/ 35، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 19/ 369.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کی مثل محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب سے "منقطعاً" واقدی کی "المغازی": 2/ 762 میں مروی ہے، اور انہی کے طریق سے ابن سعد نے "الطبقات": 4/ 35 اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق": 19/ 369 میں روایت کیا ہے۔