المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
228. ذكر مناقب زيد الحب بن حارثة بن شراحيل بن عبد العزى - تبني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زيد بن حارثة
سیدنا زید بن حارثہ بن شراحیل بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انہیں منہ بولا بیٹا بنانا
حدیث نمبر: 5012
حدثني أبو زُرعة أحمد بن الحُسين الصُّوفي بالرَّيّ، حَدَّثَنَا أبو الفضل أحمد بن عبد الله بن نصر بن هِلال الدمشقي بدمشق، حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن أيوب بن أبي عِقَال بن زيد بن الحسن بن أسامة بن زيد بن حارثةَ بن شَراحيل بن عبد العُزَّى بن امرئ القيس بن عامر بن عبد وَدَّ بن عوف بن كِنانة، حدثني عمِّي زيدُ بن أبي عِقَال بن زيد، حدثني أبي، عن جده الحسن بن أُسامة بن زيد، عن أبيه، قال: كان حارثةٌ بن شَراحيل تزوجَ امرأةً في طيِّئٍ من نَبْهان، فأولَدَها جَبَلةَ وأسماءَ وزيدًا، فتُوفِّيت وأخلَفَتْ وَلَدَها في حِجْر جَدِّهم لأُمِّهم (2) ، وأراد حارثةُ حَمْلَهم، فأَبَى جدُّهم (1) فقال: ما عندنا فهو خيرٌ لهم، فتَراضَوا إلى أن حَمَلَ جَبَلَةَ وأسماءَ، وخَلَّف زيدًا، وجاء خيلٌ من تِهَامَةَ من فَزَارةَ، فأغارت على طيِّئٍ، فسَبَتْ زيدًا فصيَّروه إلى سوق عُكاظٍ، فرآه النَّبِيُّ ﷺ مِن قبلِ أن يُبعثَ، فقال لخديجةَ:"يا خَديجةُ، رأيتُ في السوق غُلامًا من صفتِه كَيْتَ وكَيْتَ - يَصِفُ عَقْلًا وأدبًا وجمالًا - لو أنَّ لي مالًا لاشتَرَيتُه"، فأمرت ورقةَ بنَ نَوفَلٍ فاشتراه من مالِها، فقال:"يا خديجةُ، هَبِي لي هذا الغلامَ بَطِيبٍ من نَفْسِك"، فقالت: يا محمد، أرى غُلامًا وَضِيئًا، وأخافُ أن تَبِيعَه أو تَهَبَه، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"يا مُوفَّقةُ، ما أردتُ إِلَّا لأتَبنّاهُ"، فقالت: نَعَم يا محمد، فرَبَّياه وتَبنَّياه، فكان يقال له: زيد بن محمد، فجاء رجلٌ من الحَيِّ فنظر إلى زيدٍ فعَرَفه، فقال: أنتَ زيدُ بن حارثةَ؟ قال: لا، أنا زيدُ بن محمد، قال: لا، بل أنت زيدُ بن حارثةَ، من صفة أبيك وعُمُومتك وأخوالك كَيْت وكَيْت، قد أتعَبُوا الأبدان وأنفَقُوا الأموالَ في سبيلِك، فقال زيد: أحِنُّ إلى قَوْمي وإن كنتُ نائيًا … فإنِّي قَطِينُ البيتِ عند المَشاعرِ وكُفُّوا عن الوَجْدِ (2) الذي قد شَجَاكُمُ … ولا تُعمِلُوا في الأرض فِعلَ الأباعِرِ فإني بحمدِ اللهِ في خيرِ أُسرةٍ … خِيارٍ مَعَدٍّ كابرٍ بعدَ كابِرٍ فقال حارثةُ لما وَصَل إليه خبرُه: بَكَيتُ على زيدٍ ولم أدْرِ ما فَعَلْ … أحيٌّ فيُرجَى (3) أم أَتى دونَه الأجَلْ فواللهِ ما أدري وإني لَسَائلٌ … أغالَكَ سَهْلُ الأرضِ أم غالَكَ الجَبَلْ فيا ليتَ شِعْري هل لَك الدَّهْرَ رَجْعَةٌ … فحَسْبي من الدنيا رُجُوعُك لي بَجَلْ (1) تُذَكِّرُنِيهِ الشمسُ عند طُلُوعها … ويَعرِضُ لي ذِكرَاهُ إِذْ عَسْعَسَ الطَّفَلْ (2) وإن هَبَّتِ الأرواحُ هَيْمَنَ ذِكرُهُ … فيَا طُولَ أحزاني عليه ويا وَجَلْ سأُعمِلُ نَصَّ العِيسِ (3) في الأرض جاهِدًا … ولا أسأَمُ التَّطوافَ أو تَسأَمَ الإبل فيأتيَ أو تأتيَ عليَّ مَنيَّتي … وكلُّ امرئٍ فانٍ وإن غَرَّهُ الأمَلْ فقَدِمَ حارثةُ بن شَرَاحِيلَ إلى مكةَ في إخوتِه وأهلِ بيتِه، فأتى النَّبِيّ ﷺ في فِناءِ الكَعْبة في نفرٍ من أصحابه، فيهم زيدُ بن حارثة، فلما نَظَروا إلى زيدٍ عَرفُوه وعَرَفَهم ولم يقُمْ إليهم إجلالًا لرسولِ الله ﷺ، فقالوا له: يا زَيدُ، فلم يُجِبْهم، فقال له النَّبِيُّ ﷺ:"مَن هؤلاء يا زيدُ؟" قال: يا رسول الله، هذا أبي وهذا عمِّي وهذا أخي وهؤلاءِ عشيرتي، فقال النَّبِيّ ﷺ:"قُمْ فَسَلِّمْ عليهم يا زيد" فقام فسلَّم عليهم وسلَّمُوا عليه، ثم قالوا له: امْضِ مَعَنا يا زَيدُ، فقال: ما أُريدُ برسولِ الله ﷺ بدَلًا ولا غيرَه أحدًا، فقالوا: يا محمدُ، إنا مُعطُوكَ بهذا الغلامِ دِياتٍ، فَسَمِّ ما شئتَ فإنا حامِلُوه إليك، فقال:"أسألُكم أن تَشهَدوا أن لا إله إلَّا الله وأني خاتَمُ أنبيائِه ورُسُله، وأُرسِلُه معَكَم" فأَبَوا وتَلكَّؤوا وتَلَجْلَجُوا، فقالوا: تَقبَّلْ منا ما عَرَضْنا عليك من الدنانير، فقال لهم:"هاهنا خَصْلةٌ غيرُ هذِه، قد جَعَلتُ الأمرَ إليه، فإن شاءَ فليَقُمْ وإن شاءَ فليَدخُلْ" قالوا: ما بقي شيْءٌ؟ قالوا: يا زيدُ، قد أذِنَ لك الآنَ محمدٌ، فانطلِقْ معنا، قال: هَيهاتَ هَيهاتَ، ما أُريدُ برسولِ الله ﷺ بدلًا، ولا أُوثِرُ عليه والدًا ولا ولدًا، فأَدارُوه وأَلاصُوه واستعطفُوه وأخبروه خَبَرَ مَن وراءَه من وجْدِهم، فأَبي، وحَلَفَ أَن لا يَلْحَقَهم، قال حارثةُ: أمّا أنا فأُواسِيكَ بنفسي، أنا أشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ، وأَنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وأَبى الباقُون (1) .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حارثہ بن شراحیل نے بنی نبہان کی ایک خاتون سے شادی کی، ان میں سے جبلہ، اسماء اور زید پیدا ہوئے، پھر وہ خاتون فوت ہو گئیں، اور انہوں نے اپنی یہ اولاد ان کے دادا کی پرورش میں چھوڑی تھی، جبکہ حارثہ کی خواہش تھی کہ ان کے بچے انہی کی پرورش میں رہیں، چنانچہ وہ ان کے دادا کے پاس آئے (اور مدعا بیان کیا) انہوں نے کہا: ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ ان کے لئے بہتر ہے (یعنی ہمارے پاس ان کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی) پھر یہ لوگ اس بات پر رضامند ہو گئے (کہ جبلہ اور اسماء کو ان کے والد حارثہ لے جائیں گے اور زید اپنے دادا کے پاس رہیں گے) چنانچہ فیصلہ کے مطابق جبلہ اور اسماء کو ان کے والد لے گئے اور زید اپنے دادا کے پاس رہ گئے۔ پھر تہامہ کی طرف سے بنی فزارہ میں سے ایک قبیلہ وہاں آیا، انہوں نے قبیلہ ” طی “ پر حملہ کر دیا، اس میں سیدنا زید بھی قیدی ہوئے، وہ لوگ ان کو عکاظ بازار میں لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ لیا (یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے کی بات ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے خدیجہ! میں نے بازار میں ایک غلام دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حسن و جمال، اس کی عقل و تمیز کی صفات بیان فرمائیں، اور فرمایا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں یہ غلام خرید لیتا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ورقہ بن نوفل کو حکم دیا، انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو خرید لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خدیجہ رضی اللہ عنہا! تم اپنی خوشدلی کے ساتھ یہ غلام مجھے تحفہ دے دو، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ غلام بہت حسین و جمیل ہے مجھے خدشہ ہے کہ آپ اس کو آگے بیچ دیں گے یا کسی کو تحفہ دے دیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں۔ میں تو اس کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا ہوں، ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حامی بھر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پرورش کی اور ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ اس وجہ سے ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا۔ بعد میں ان کے علاقے سے ایک آدمی وہاں پر آیا، اس نے سیدنا زید بن حارثہ کو پہچان لیا، وہ بولا: کیا تم زید بن حارثہ (رضی اللہ عنہ) ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں زید بن محمد ہوں۔ اس آدمی نے کہا: نہیں۔ بلکہ تم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہو پھر اس نے ان کے والد کی، ان کے چچاؤں اور مامؤوں کی حالت بیان کی اور بتایا کہ انہوں نے تجھے ڈھونڈنے میں بہت مال خرچ کر ڈالا اور بے چارے تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے ہیں، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب میں درج ذیل اشعار پڑھے۔ * میں اگرچہ اپنی قوم سے دور ہوں لیکن پھر بھی ان سے محبت رکھتا ہوں، اور حج کے موسم میں، میں اس گھرانے کا خدمت گزار ہوتا ہوں۔ * اور تم اس شخص سے بچ کر رہو جس نے تمہیں زخمی کیا ہے اور زمین میں جانوروں جیسے اعمال مت سیکھو۔ * کیونکہ اللہ کے فضل سے میں سب سے افضل خاندان میں موجود ہوں جو کہ پشت در پشت سردار چلے آ رہے ہیں۔ پھر جب وہ آدمی حارثہ کے پاس پہنچا (زید کے مل جانے کی خبر سنائی تو سیدنا حارثہ نے درج ذیل اشعار کہے۔ * میں زید پر رویا، مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ زندہ ہے (کیونکہ اگر وہ زندہ ہے) تو اس سے ملنے کی امید رکھیں، یا وہ فوت ہو گیا ہے۔ * خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم، میں تو سائل ہوں کہ تجھے کوئی زمین راس آ گئی ہے یا تجھے کسی پہاڑ نے نگل لیا ہے۔ * کاش کہ مجھے یہ پتا چل جائے کہ زمانے میں کبھی تو لوٹ آئے گا، تو اس زمانے میں مجھے تیرے آنے کی امید سے بڑھ کر اور کچھ نہیں چاہئے۔ تو مجھے سورج کے طلوع ہونے کے وقت بھی یاد آتا ہے جب بچہ رات کو روتا ہے۔ * جب ہوائیں چلتی ہیں تو اس کی یاد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہائے افسوس کہ میرا غم کتنا زیادہ اور کتنا طویل ہے۔ * میں اس کو ڈھونڈنے میں اپنی زندگی صرف کر دوں گا، انتھک محنت کروں گا اور تروتازہ گھاس روند ڈالوں گا۔ * پھر وہ خود میرے پاس آ جائے یا مجھے موت آ جائے، اور شخص نے مرنا تو ہے اگرچہ اس کو اس کی امیدوں نے دھوکے میں ڈال رکھا ہو۔ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے اعزاء و اقرباء سمیت مکہ شریف میں آئے، فنائے کعبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کافی سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، ان میں سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب ان لوگوں نے سیدنا زید کو دیکھا تو پہچان لیا اور سیدنا زید نے ان کو پہچان لیا لیکن بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کی وجہ سے اٹھ کر ان کی جانب نہ گئے، ان لوگوں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بہت آوازیں دیں، لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرے والد صاحب ہیں، یہ میرے چچا ہیں، یہ میرے بھائی ہیں، یہ میرا پورا خاندان ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لئے اٹھو اور ان کو سلام کرو، پھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر ان کو سلام کیا، اور انہوں نے ان سے سلام کیا۔ پھر وہ لوگ کہنے لگے: اے زید تم ہمارے ساتھ چلو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم آپ کو اس غلام کے بدلے ہر طرح کی قیمت دے سکتے ہیں آپ ہم سے جو بھی مطالبہ کریں گے ہم آپ کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے تم لوگ اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ کا آخری نبی اور رسول ہوں اور اس نے مجھے تمہاری جانب رسول بنا کر بھیجا ہے۔ وہ لوگ نہ مانے اور کہنے لگے: ہم جو دینار وغیرہ آپ کو پیش کر رہے ہیں آپ صرف انہی کو قبول فرما لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں یہ عادت نہیں ہے۔ میں نے زید کا معاملہ اسی کے سپرد کیا، یہ اگر جانا چاہتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ کہنے لگے ٹھیک ہے، اب اس سے بڑھ کر تو کوئی بات باقی نہیں بچتی۔ پھر وہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: اے زید! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تو اب اجازت دے دی ہے، اب تو آپ ہمارے ساتھ چلئے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان کو جواباً کہا: دور ہٹ جاؤ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ تو کوئی بدل چاہتا ہوں اور نہ ان پر اپنے باپ، بیٹے اور کسی کو بھی ترجیح دیتا ہوں، ان لوگوں نے بہت کوشش کی، ان کو نرمی، شفقت اور پیار سے سمجھایا، بہت سبز باغ دکھائے، اور چکر دینے کے تمام جتن کر لئے۔ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تمہیں اپنی گارنٹی دے سکتا ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (ان کے والد نے اسلام قبول کر لیا) اور باقیوں نے انکار کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5012]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5012 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: لأبيهم، والتصويب من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "لأبیہم" تحریف ہو گیا تھا، جس کی تصحیح مصادرِ تخریج سے کی گئی ہے۔
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: جدّهما، بضمير المثنى، وإنما هم ثلاثة أولاد، فالصحيح التعبير بضمير الجمع.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں "جدہما" (تثنیہ کی ضمیر کے ساتھ) تحریف ہو گیا تھا، جبکہ وہ تین لڑکے تھے، لہٰذا صحیح جمع کی ضمیر ہے۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: الوجه، والتصويب من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "الوجہ" تحریف ہو گیا تھا، جس کی تصحیح مصادرِ تخریج سے کی گئی ہے۔
(3) في (ص) و (م): يُرجى.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ص) اور (م) میں "یُرجی" ہے۔
(1) بَجَل وتُسكَّن الجيم، واللام ساكنة أبدًا، اسم فِعل بمعنى: حَسْب.
🔍 فنی نکتہ / لغت: "بَجَل" (جیم کے سکون کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے، اور لام ہمیشہ ساکن ہوتا ہے) اسمِ فعل ہے جس کا مطلب ہے "بس / کافی" (حسب)۔
(2) الطَّفَل بفتحتين: وقت مغيب الشمس حين تصفَرّ ويضعُف ضوؤها.
🔍 فنی نکتہ / لغت: "الطَّفَل" (دو زبر کے ساتھ): سورج ڈوبنے کا وقت جب وہ زرد ہو جائے اور اس کی روشنی مدھم پڑ جائے۔
(3) نصُّ العِيس: سَيْر الإبل السَّريع، فالنصُّ: هو السير السريع، والعِيسُ: الإبل البِيض التي في بياضها ظلمة خفيّة.
🔍 فنی نکتہ / لغت: "نصُّ العِیس": اونٹوں کا تیز چلنا۔ "النص" کا مطلب تیز چلنا ہے، اور "العیس" وہ سفید اونٹ جن کی سفیدی میں ہلکی سی سیاہی (ظلمت) ملی ہو۔
(1) خبر محتمل للتحسين، وزيد بن أبي عِقالٍ وأبوه وإن كان فيهما جهالة لم يُعرفا بجرحٍ، وقد رويا قصةً حصلت لجدِّهما زيد بن حارثة، والرجل أدرى وأعلم بأهل بيته على أنه رُوي نحو هذه القصة من وجوه ضعيفةٍ، ولكنها - وإن كانت كذلك - تدلُّ على أنَّ للقصة أصلًا، على شهرتها كذلك عند أهل المغازي والسير، وعليه فلا يُسلَّم للحافظ ابن حجر إنكاره للقصة في "تهذيب التهذيب" في ترجمة أبي عقال هلال بن زيد بن الحسن.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ خبر "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے (حسن ہو سکتی ہے)۔ زید بن ابی عقال اور ان کے والد میں اگرچہ جہالت ہے مگر ان پر جرح معروف نہیں، اور انہوں نے اپنے دادا زید بن حارثہ کا قصہ روایت کیا ہے، اور آدمی اپنے گھر والوں کو زیادہ بہتر جانتا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: یہ قصہ دیگر ضعیف سندوں سے بھی مروی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل ضرور ہے، علاوہ ازیں یہ سیرت و مغازی والوں کے ہاں مشہور بھی ہے۔ اس لیے حافظ ابن حجر کا "تہذیب التہذیب" میں ابو عقال ہلال بن زید کے ترجمے میں اس قصے کا انکار تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
وأخرجه ابن مَندَهْ في "معرفة الصحابة" كما في "الإصابة" لابن حجر 1/ 615 - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 19/ 529 - 531 - وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1987)، وأبو بكر محمد بن علي بن محمد بن عمر المُطَّوّعي الغازي في "من صبر ظفر" (11) من طرق عن أبي زكريا يحيى بن أيوب بن أبي عِقال، عن عمه زيد بن أبي عِقال بن زيد بن الحسن بن أسامة بن زيد، عن أبيه أبي عِقالِ بن زيد بن الحسن، عن أبيه زيد بن الحسن بن أسامة، عن أبيه الحسن بن أسامة بن زيد، عن أبيه. فزادوا فيه زيدَ بنَ الحسن بن أسامة، وفيه جهالة أيضًا، لكنه من ولد زيد بن حارثة كذلك، فحالُه كحالِ أبي عِقال وولده زيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابۃ" [بحوالہ "الاصابہ": 1/ 615] میں - اور ان کے طریق سے ابن عساکر: 19/ 529-531 نے - ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ": (1987) میں، اور ابو بکر... المطوعی الغازی نے "من صبر ظفر": (11) میں ابو زکریا یحییٰ بن ایوب بن ابی عقال > ان کے چچا زید بن ابی عقال... کے طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: انہوں نے اس میں "زید بن الحسن بن اسامہ" کا اضافہ کیا ہے جس میں جہالت ہے، لیکن وہ بھی زید بن حارثہ کی اولاد میں سے ہیں، ان کا حال بھی ابو عقال اور ان کے بیٹے زید جیسا ہے۔
وأخرجه تمام الرازي في "فوائده" (1200) و (1201)، وفي "جزء إسلام زيد" (1)، ومن طريقه أخرجه ابن عُساكر 10/ 136 - 139 من طرق عن يحيى بن أيوب بن أبي عقال، أنَّ أباه حدّثه وكان صغيرًا فلم يَعِ عنه، قال: فحدثنى عمي زيد بن أبي عِقال، عن أبيه، أنَّ آباءه حدَّثوه: أن حارثة تزوّج … فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تمام الرازی نے "الفوائد": (1200) و (1201) اور "جزء اسلام زید": (1) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر: 10/ 136-139 نے یحییٰ بن ایوب بن ابی عقال کے طرق سے روایت کیا ہے کہ ان کے والد نے انہیں حدیث بیان کی مگر وہ چھوٹے تھے اس لیے یاد نہ رکھ سکے، پھر کہا: مجھے میرے چچا زید بن ابی عقال نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ان کے آباء نے انہیں بتایا کہ حارثہ نے شادی کی... پھر ذکر کیا۔
وقوله: أداروه، من أداره على الأمر، بمعنى: حاوَلَه أن يفعله.
🔍 فنی نکتہ / لغت: قولہ "اداروہ": یہ "ادارہ علی الامر" سے ہے جس کا معنی ہے کسی کام کو کرنے کی کوشش کرنا/ورغلانا۔
وقوله: أَلاصُوه، من ألصْتُ الشيءَ: إذا حرَّكْتَه لتنتزعَه عن موضعه.
🔍 فنی نکتہ / لغت: قولہ "الاصوہ": یہ "الصلت الشیء" سے ہے، جب تم کسی چیز کو اس کی جگہ سے اکھاڑنے کے لیے ہلاؤ۔
وروي نحو هذه القصة من وجوهٍ ضعيفةٍ عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 38 - 40، والزُّبير بن بَكَّار في "الأخبار المُوفَّقِيات" (176)، والطبري في "ذيل المذيَّل" كما في "منتخبه" المطبوع بإثر "تاريخ الطبري" 11/ 495 - 496. قلنا: ورُويَت قصة استرقاق زيد ثم مصيره لخديجة بنحو ما جاء هنا باختصار عن أبي إسحاق السَّبيعي مرسلًا عند أبي القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (317)، وابن قانع في "معجم الصحابة" 1/ 162، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 123، وابن عساكر 19/ 351 - 352.
🧩 متابعات و شواہد: یہ قصہ ضعیف سندوں سے ابن سعد ["الطبقات": 3/ 38-40]، زبیر بن بکار ["الاخبار الموفقیات": (176)] اور طبری ["ذیل المذیل": 11/ 495-496] میں مروی ہے۔ ہم کہتے ہیں: زید کے غلام بننے اور پھر خدیجہ ؓ کے پاس آنے کا قصہ اختصار کے ساتھ ابو اسحاق السبیعی سے "مرسلاً" ابو القاسم البغوی ["معجم الصحابۃ": (317)]، ابن قانع ["معجم الصحابۃ": 1/ 162]، ابن عبدالبر ["الاستیعاب": ص 123] اور ابن عساکر [19/ 351-352] میں مروی ہے۔
وأورد الذهبيُّ في "سير أعلام النبلاء" 1/ 223 قصة رؤية النَّبِيّ ﷺ لزيد يُباع في السوق وسؤاله خديجة أن تشتريه ثم هبتها زيدًا للنبي ﷺ عن أبي فَزَارة راشد بن كيسان العَبْسي مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء": 1/ 223 میں نبی ﷺ کا زید کو بازار میں بکتے دیکھنا اور خدیجہ ؓ سے انہیں خریدنے کا کہنا، پھر خدیجہ کا انہیں نبی ﷺ کو ہبہ کرنا، ابو فزارہ راشد بن کیسان العبسی سے "مرسلاً" نقل کیا ہے۔
وقال ابن حجر في "الإصابة" 2/ 600: وقد ذكر ابن إسحاق قصة مجيء حارثة والد زيد في طلبه بنحوه.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ابن حجر نے "الاصابہ": 2/ 600 میں فرمایا: "ابن اسحاق نے حارثہ (والدِ زید) کے انہیں تلاش کرنے کے لیے آنے کا قصہ اسی طرح ذکر کیا ہے"۔
وروى شِعرَ حارثة والد زيد الذي قاله لما فَقَد ابنَه زيدًا الواقديُّ عن شيوخه كما سيأتي عند المصنّف بعده.
🧾 تفصیلِ روایت: اور حارثہ (والدِ زید) کا وہ شعر جو انہوں نے زید کے گم ہونے پر کہا تھا، اسے واقدی نے اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں اس کے بعد آئے گا۔