المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
228. ذِكْرُ مَنَاقِبِ زَيْدٍ الْحِبِّ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى - تَبَنِّي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ
سیدنا زید بن حارثہ بن شراحیل بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انہیں منہ بولا بیٹا بنانا
حدیث نمبر: 5012
حدثني أبو زُرعة أحمد بن الحُسين الصُّوفي بالرَّيّ، حَدَّثَنَا أبو الفضل أحمد بن عبد الله بن نصر بن هِلال الدمشقي بدمشق، حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن أيوب بن أبي عِقَال بن زيد بن الحسن بن أسامة بن زيد بن حارثةَ بن شَراحيل بن عبد العُزَّى بن امرئ القيس بن عامر بن عبد وَدَّ بن عوف بن كِنانة، حدثني عمِّي زيدُ بن أبي عِقَال بن زيد، حدثني أبي، عن جده الحسن بن أُسامة بن زيد، عن أبيه، قال: كان حارثةٌ بن شَراحيل تزوجَ امرأةً في طيِّئٍ من نَبْهان، فأولَدَها جَبَلةَ وأسماءَ وزيدًا، فتُوفِّيت وأخلَفَتْ وَلَدَها في حِجْر جَدِّهم لأُمِّهم (2) ، وأراد حارثةُ حَمْلَهم، فأَبَى جدُّهم (1) فقال: ما عندنا فهو خيرٌ لهم، فتَراضَوا إلى أن حَمَلَ جَبَلَةَ وأسماءَ، وخَلَّف زيدًا، وجاء خيلٌ من تِهَامَةَ من فَزَارةَ، فأغارت على طيِّئٍ، فسَبَتْ زيدًا فصيَّروه إلى سوق عُكاظٍ، فرآه النَّبِيُّ ﷺ مِن قبلِ أن يُبعثَ، فقال لخديجةَ:"يا خَديجةُ، رأيتُ في السوق غُلامًا من صفتِه كَيْتَ وكَيْتَ - يَصِفُ عَقْلًا وأدبًا وجمالًا - لو أنَّ لي مالًا لاشتَرَيتُه"، فأمرت ورقةَ بنَ نَوفَلٍ فاشتراه من مالِها، فقال:"يا خديجةُ، هَبِي لي هذا الغلامَ بَطِيبٍ من نَفْسِك"، فقالت: يا محمد، أرى غُلامًا وَضِيئًا، وأخافُ أن تَبِيعَه أو تَهَبَه، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"يا مُوفَّقةُ، ما أردتُ إِلَّا لأتَبنّاهُ"، فقالت: نَعَم يا محمد، فرَبَّياه وتَبنَّياه، فكان يقال له: زيد بن محمد، فجاء رجلٌ من الحَيِّ فنظر إلى زيدٍ فعَرَفه، فقال: أنتَ زيدُ بن حارثةَ؟ قال: لا، أنا زيدُ بن محمد، قال: لا، بل أنت زيدُ بن حارثةَ، من صفة أبيك وعُمُومتك وأخوالك كَيْت وكَيْت، قد أتعَبُوا الأبدان وأنفَقُوا الأموالَ في سبيلِك، فقال زيد: أحِنُّ إلى قَوْمي وإن كنتُ نائيًا … فإنِّي قَطِينُ البيتِ عند المَشاعرِ وكُفُّوا عن الوَجْدِ (2) الذي قد شَجَاكُمُ … ولا تُعمِلُوا في الأرض فِعلَ الأباعِرِ فإني بحمدِ اللهِ في خيرِ أُسرةٍ … خِيارٍ مَعَدٍّ كابرٍ بعدَ كابِرٍ فقال حارثةُ لما وَصَل إليه خبرُه: بَكَيتُ على زيدٍ ولم أدْرِ ما فَعَلْ … أحيٌّ فيُرجَى (3) أم أَتى دونَه الأجَلْ فواللهِ ما أدري وإني لَسَائلٌ … أغالَكَ سَهْلُ الأرضِ أم غالَكَ الجَبَلْ فيا ليتَ شِعْري هل لَك الدَّهْرَ رَجْعَةٌ … فحَسْبي من الدنيا رُجُوعُك لي بَجَلْ (1) تُذَكِّرُنِيهِ الشمسُ عند طُلُوعها … ويَعرِضُ لي ذِكرَاهُ إِذْ عَسْعَسَ الطَّفَلْ (2) وإن هَبَّتِ الأرواحُ هَيْمَنَ ذِكرُهُ … فيَا طُولَ أحزاني عليه ويا وَجَلْ سأُعمِلُ نَصَّ العِيسِ (3) في الأرض جاهِدًا … ولا أسأَمُ التَّطوافَ أو تَسأَمَ الإبل فيأتيَ أو تأتيَ عليَّ مَنيَّتي … وكلُّ امرئٍ فانٍ وإن غَرَّهُ الأمَلْ فقَدِمَ حارثةُ بن شَرَاحِيلَ إلى مكةَ في إخوتِه وأهلِ بيتِه، فأتى النَّبِيّ ﷺ في فِناءِ الكَعْبة في نفرٍ من أصحابه، فيهم زيدُ بن حارثة، فلما نَظَروا إلى زيدٍ عَرفُوه وعَرَفَهم ولم يقُمْ إليهم إجلالًا لرسولِ الله ﷺ، فقالوا له: يا زَيدُ، فلم يُجِبْهم، فقال له النَّبِيُّ ﷺ:"مَن هؤلاء يا زيدُ؟" قال: يا رسول الله، هذا أبي وهذا عمِّي وهذا أخي وهؤلاءِ عشيرتي، فقال النَّبِيّ ﷺ:"قُمْ فَسَلِّمْ عليهم يا زيد" فقام فسلَّم عليهم وسلَّمُوا عليه، ثم قالوا له: امْضِ مَعَنا يا زَيدُ، فقال: ما أُريدُ برسولِ الله ﷺ بدَلًا ولا غيرَه أحدًا، فقالوا: يا محمدُ، إنا مُعطُوكَ بهذا الغلامِ دِياتٍ، فَسَمِّ ما شئتَ فإنا حامِلُوه إليك، فقال:"أسألُكم أن تَشهَدوا أن لا إله إلَّا الله وأني خاتَمُ أنبيائِه ورُسُله، وأُرسِلُه معَكَم" فأَبَوا وتَلكَّؤوا وتَلَجْلَجُوا، فقالوا: تَقبَّلْ منا ما عَرَضْنا عليك من الدنانير، فقال لهم:"هاهنا خَصْلةٌ غيرُ هذِه، قد جَعَلتُ الأمرَ إليه، فإن شاءَ فليَقُمْ وإن شاءَ فليَدخُلْ" قالوا: ما بقي شيْءٌ؟ قالوا: يا زيدُ، قد أذِنَ لك الآنَ محمدٌ، فانطلِقْ معنا، قال: هَيهاتَ هَيهاتَ، ما أُريدُ برسولِ الله ﷺ بدلًا، ولا أُوثِرُ عليه والدًا ولا ولدًا، فأَدارُوه وأَلاصُوه واستعطفُوه وأخبروه خَبَرَ مَن وراءَه من وجْدِهم، فأَبي، وحَلَفَ أَن لا يَلْحَقَهم، قال حارثةُ: أمّا أنا فأُواسِيكَ بنفسي، أنا أشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ، وأَنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وأَبى الباقُون (1) .
حسن بن اسامہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن شراحیل نے قبیلہ طے کی شاخ نبہان کی ایک عورت سے شادی کی، جس سے جبلہ، اسماء اور زید پیدا ہوئے۔ پھر اس عورت کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنے بچوں کو ان کے نانا کی پرورش میں چھوڑ دیا۔ حارثہ نے انہیں ساتھ لے جانا چاہا، لیکن ان کے نانا نے انکار کر دیا اور کہا: ”ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ ان کے لیے بہتر ہے۔“ پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ حارثہ، جبلہ اور اسماء کو لے جائیں اور زید کو یہیں چھوڑ دیں۔ پھر تہامہ سے قبیلہ فزارہ کے کچھ گھڑ سوار آئے اور انہوں نے قبیلہ طے پر حملہ کر کے زید کو قیدی بنا لیا اور انہیں عکاظ کے بازار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی بعثت سے پہلے دیکھا تو خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے خدیجہ! میں نے بازار میں ایک لڑکا دیکھا ہے جس کی خوبیاں ایسی ایسی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عقل، ادب اور خوبصورتی بیان کی۔ ”اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اسے خرید لیتا۔“ چنانچہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ورقہ بن نوفل کو حکم دیا اور انہوں نے اسے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال سے خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! تم اپنی خوشی سے یہ لڑکا مجھے ہبہ کر دو۔“ انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! میں ایک خوبصورت لڑکا دیکھ رہی ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ اسے بیچ نہ دیں یا کسی کو ہبہ نہ کر دیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نیک بخت! میں نے اسے صرف اس لیے مانگا ہے تاکہ اسے اپنا متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنا لوں۔“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، اے محمد!“ چنانچہ ان دونوں نے ان کی پرورش کی اور انہیں بیٹا بنا لیا، اور انہیں زید بن محمد کہا جانے لگا۔ پھر ان کے قبیلے کا ایک آدمی آیا، اس نے زید کو دیکھا تو پہچان لیا اور پوچھا: ”کیا تم زید بن حارثہ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، میں زید بن محمد ہوں۔“ اس نے کہا: ”نہیں، بلکہ تم زید بن حارثہ ہو، تمہارے والد، چچاؤں اور ماموؤں کی نشانیاں یہ یہ ہیں۔ انہوں نے تمہاری تلاش میں اپنے جسموں کو تھکا دیا ہے اور اپنا مال خرچ کر دیا ہے۔“ اس پر زید نے (اشعار کی صورت میں) کہا: ”میں اپنی قوم کے لیے تڑپتا ہوں اگرچہ میں دور ہوں، یقیناً میں مشاعر (مقدس مقامات) کے قریب اس گھر کا باسی ہوں، تم اس غم کو چھوڑ دو جس نے تمہیں نڈھال کر رکھا ہے، اور زمین میں اونٹوں کی طرح مارے مارے نہ پھرو، کیونکہ الحمدللہ! میں ایک بہترین خاندان میں ہوں، جو معد کے بہترین لوگ ہیں اور نسل در نسل شرف والے ہیں۔“ جب حارثہ تک ان کی یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: ”میں نے زید پر گریہ کیا اور مجھے معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا گزری، کیا وہ زندہ ہے کہ اس کی امید رکھی جائے، یا اسے موت آ چکی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھے کچھ علم نہیں لیکن میں یہ ضرور پوچھتا ہوں کہ کیا تجھے میدانی زمین کھا گئی یا تجھے پہاڑ نے ہلاک کر دیا؟ کاش مجھے معلوم ہو جائے کہ کیا زمانے میں تیری کبھی واپسی ہو گی؟ بس دنیا سے میرے لیے تیرا لوٹ آنا ہی کافی ہے۔ سورج طلوع ہوتے وقت مجھے اس کی یاد دلاتا ہے، اور جب شام کا اندھیرا چھاتا ہے تو اس کی یاد میرے سامنے آ جاتی ہے۔ اگر ہوائیں چلتی ہیں تو اس کی یاد کو اور بڑھا دیتی ہیں، اس پر میرے غم اور میرا خوف کتنا طویل ہو گیا ہے۔ میں پوری کوشش سے زمین پر تیز رفتار اونٹنیوں کو دوڑاؤں گا، اور میں اس چکر لگانے سے نہیں تھکوں گا جب تک کہ اونٹ نہ تھک جائیں۔ یہاں تک کہ وہ آ جائے یا میری موت آ جائے، اور ہر انسان فانی ہے اگرچہ امید اسے دھوکے میں ڈالے رکھے۔“ پھر حارثہ بن شراحیل اپنے بھائیوں اور گھر والوں کے ہمراہ مکہ آئے۔ وہ کعبہ کے صحن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ بھی موجود تھے، جن میں زید بن حارثہ بھی تھے۔ جب انہوں نے زید کو دیکھا تو پہچان لیا اور زید نے بھی انہیں پہچان لیا، لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کی وجہ سے ان کی طرف کھڑے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا: ”اے زید!“ لیکن زید نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے زید! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ میرے والد ہیں، یہ میرے چچا ہیں، یہ میرے بھائی ہیں اور یہ میرا خاندان ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور انہیں سلام کرو اے زید!“ چنانچہ وہ اٹھے، انہیں سلام کیا اور انہوں نے بھی انہیں سلام کیا۔ پھر انہوں نے زید سے کہا: ”اے زید! ہمارے ساتھ چلو۔“ تو زید نے جواب دیا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلے کسی اور کو ہرگز نہیں چاہتا۔“ انہوں نے کہا: ”اے محمد! ہم آپ کو اس لڑکے کے بدلے دیت (فدیہ) دینے کو تیار ہیں، آپ جو چاہیں مانگ لیں، ہم وہ آپ کو لا دیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اس کے نبیوں اور رسولوں میں سب سے آخری ہوں، تو میں اسے تمہارے ساتھ بھیج دوں گا۔“ انہوں نے انکار کیا، ہچکچائے اور ٹال مٹول کرنے لگے، پھر کہنے لگے: ”ہم نے آپ کو جو دینار پیش کیے ہیں، آپ ہم سے وہی قبول کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہاں اس کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے، میں نے فیصلہ اسی (زید) پر چھوڑ دیا ہے، اگر یہ چاہے تو چلا جائے اور اگر چاہے تو یہیں رہے۔“ وہ کہنے لگے: ”اب تو کوئی بات باقی نہیں رہی؟“ پھر انہوں نے کہا: ”اے زید! اب محمد نے تمہیں اجازت دے دی ہے، لہٰذا ہمارے ساتھ چلو۔“ زید نے کہا: ”ہرگز نہیں، ہرگز نہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلے کسی اور کو نہیں چاہتا، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی والد یا اولاد کو ترجیح نہیں دے سکتا۔“ انہوں نے زید کو بہت سمجھایا، ان کی منت سماجت کی اور انہیں بتایا کہ ان کے پیچھے لوگ ان کے غم میں کس قدر نڈھال ہیں، لیکن زید نے انکار کر دیا اور قسم کھائی کہ وہ ان کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ حارثہ نے کہا: ”جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں اپنی جان آپ پر فدا کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یقیناً محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ جبکہ باقی لوگوں نے انکار کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5012]
تخریج الحدیث: «خبر محتمل للتحسين، وزيد بن أبي عِقالٍ وأبوه وإن كان فيهما جهالة لم يُعرفا بجرحٍ، وقد رويا قصةً حصلت لجدِّهما زيد بن حارثة، والرجل أدرى وأعلم بأهل بيته على أنه رُوي نحو هذه القصة من وجوه ضعيفةٍ، ولكنها - وإن كانت كذلك - تدلُّ على أنَّ للقصة أصلًا، على شهرتها ...» [ترقيم الرساله 5012] [ترقيم الشركة 4977]
الحكم على الحديث: خبر محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 5013
فحدّثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْمَ، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن شُيوخه، قال: كان حارثةُ بن شَراحِيلَ حين فَقَدَ ابنَه زيدًا يَبكِيه فيقول: بَكَيتُ على زيدٍ ولم أدْرِ ما فَعَلْ ثم ذكر القصيدةَ بطولها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4946 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4946 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حارثہ بن شراحیل جب اپنے بیٹے زید (رضی اللہ عنہ) کو گم کر بیٹھے تو وہ ان کے غم میں روتے ہوئے یہ اشعار کہتے تھے: ”میں زید کے غم میں رویا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا“ پھر انہوں نے مکمل طویل قصیدہ ذکر کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5013]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5013] [ترقيم الشركة 4978] [ترقيم العلميه 4946]
حدیث نمبر: 5014
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا أحمد بن بِشر المَرْثَدي، حَدَّثَنَا عبد الغفار بن عَبد الله (1) بن الزُّبير المَوصِلي، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي عمرو الشَّيباني، حدثني جَبَلة بن حارثة أخو زيد بن حارثة، قال: أتيت النَّبِيُّ ﷺ، فقلتُ: يا رسول الله، ابعَثْ معي أخي زيدًا، فقال:"هو ذا هو، إن أراد لم أَمنعْهُ"، فقال زيدٌ: لا واللهِ لا أختارُ عليك أحدًا، قال جَبَلةُ: فقلتُ: إنّ رأيَ أخي أفضلُ من رأيي (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو شاهدٌ للحديثِ الماضي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4948 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4948 - صحيح
زید بن حارثہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ روانہ فرما دیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ (سامنے) موجود ہے، اگر وہ خود جانا چاہے تو میں اسے نہیں روکوں گا۔“ تب زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں آپ کے مقابلے میں (دنیا میں) کسی کا انتخاب نہیں کروں گا۔“ جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے (یہ دیکھ کر اپنے دل میں) کہا کہ یقیناً میرے بھائی کی رائے میری رائے سے زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ گزشتہ حدیث کے لیے شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5014]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ گزشتہ حدیث کے لیے شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ من أجل عبد الغفار بن عبد الله بن الزبير الموصلي، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد تابعه على رواية هذا الحديث مِنْجابُ بن الحارث وغيره، ومنجابٌ ثقة. أبو عمرو الشيباني: هو سعْد بن إياس. وأخرجه الترمذي (3815) من طريق محمد بن ...» [ترقيم الرساله 5014] [ترقيم الشركة 4979] [ترقيم العلميه 4948]
الحكم على الحديث: حديث صحيح