🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
228. ذكر مناقب زيد الحب بن حارثة بن شراحيل بن عبد العزى - تبني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زيد بن حارثة
سیدنا زید بن حارثہ بن شراحیل بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انہیں منہ بولا بیٹا بنانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5014
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا أحمد بن بِشر المَرْثَدي، حَدَّثَنَا عبد الغفار بن عَبد الله (1) بن الزُّبير المَوصِلي، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي عمرو الشَّيباني، حدثني جَبَلة بن حارثة أخو زيد بن حارثة، قال: أتيت النَّبِيُّ ﷺ، فقلتُ: يا رسول الله، ابعَثْ معي أخي زيدًا، فقال:"هو ذا هو، إن أراد لم أَمنعْهُ"، فقال زيدٌ: لا واللهِ لا أختارُ عليك أحدًا، قال جَبَلةُ: فقلتُ: إنّ رأيَ أخي أفضلُ من رأيي (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو شاهدٌ للحديثِ الماضي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4948 - صحيح
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا جبلہ بن حارثہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی زید رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ بھیج دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زید وہ ہے، وہ اگر تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں ہرگز منع نہیں کروں گا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ بولے: نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ پر کسی کو بھی ترجیح نہیں دے سکتا۔ سیدنا جبلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بھائی کی رائے میری رائے سے بہتر تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5014]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5014 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عُبيد الله، بالتصغير، والتصويب من مصادر ترجمته، وكذلك سمّاه تلميذه أبو يعلى الموصلي إذ روى عنه في "مسنده" عدة أحاديث.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبیداللہ" (مصغّر) بن گیا تھا، جس کی تصحیح ان کے ترجمہ کے مصادر سے کی گئی ہے، اور ان کے شاگرد ابو یعلیٰ الموصلی نے بھی اپنی "مسند" میں ان سے کئی احادیث روایت کرتے ہوئے یہی نام (عبداللہ) لیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ من أجل عبد الغفار بن عبد الله بن الزبير الموصلي، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد تابعه على رواية هذا الحديث مِنْجابُ بن الحارث وغيره، ومنجابٌ ثقة. أبو عمرو الشيباني: هو سعْد بن إياس. وأخرجه الترمذي (3815) من طريق محمد بن عمر بن الرُّومي، عن علي بن مُسهر، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند عبدالغفار بن عبداللہ بن زبیر الموصلی کی وجہ سے "حسن" ہے، ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ اس حدیث میں منجاب بن حارث وغیرہ نے ان کی متابعت کی ہے، اور منجاب ثقہ ہیں۔ (سند میں موجود) ابو عمرو الشیبانی سے مراد سعد بن ایاس ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی: (3815) نے محمد بن عمر بن الرومی > علی بن مسہر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور فرمایا: "یہ حدیث حسن غریب ہے"۔
وتابعهما منجابُ بن الحارث عند الطبراني في "المعجم الكبير" (2192) وغيره.
🧩 متابعات و شواہد: اور منجاب بن حارث نے ان دونوں کی متابعت طبرانی کی "المعجم الکبیر": (2192) وغیرہ میں کی ہے۔
ورواه أيضًا أبو النضر عمرو بن النضر البصري عن إسماعيل بن أبي خالد عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2600)، والطبراني (2193) وغيرهما.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابو النضر عمرو بن النضر البصری نے اسماعیل بن ابی خالد سے ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثانی": (2600) اور طبرانی: (2193) وغیرہ میں روایت کیا ہے۔