المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
249. ذكر قطبة بن عامر الأنصاري رضى الله عنه
سیدنا قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5067
حدثنا أبو العباس، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن أشياخٍ من قومه: خرجَ رسولُ الله ﷺ في المَوسِم الذي لَقِيَه فيه النفرُ من الأنصار، فعَرَض نفسَه على قبائل العرب، ثم انصرفُوا عن رسول الله ﷺ راجِعين إلى بلادهم قد آمنُوا وصَدَّقوا، منهم قُطْبة بن عامر بن حَديدةَ (1) .
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے اساتذہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حج کے موقع پر نکلے جس میں انصاریوں کے ایک وفد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو عرب کے قبائل کے لئے پیش فرمایا تھا پھر یہ لوگ ایمان قبول کر کے اپنے اپنے قبیلوں کی طرف واپس لوٹ گئے تھے۔ ان میں سیدنا قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5067]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5067 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، فإن كان الأشياخ الذين حدَّثوا عاصم بن عمر بن قتادة أو بعضهم من الصحابة، فالإسناد حسنٌ، وقد روى القصة ابن سعد في "طبقاته" 1/ 187 عن محمد بن عمر الواقدي، عن محمد بن صالح التمار، عن عاصم بن عمر، عن محمود بن لَبيد. ومحمود بن لبيد له رؤية.
⚖️ درجۂ حدیث: راویوں میں کوئی حرج نہیں۔ اگر عاصم بن عمر کے اساتذہ (اشیاخ) میں سے کوئی صحابی ہے تو سند "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابن سعد (1/187) نے اسے واقدی کے واسطے سے محمود بن لبید سے نقل کیا ہے، جنہیں نبی ﷺ کی زیارت (رؤیت) کا شرف حاصل ہے۔
وإن لم يكن أحدٌ من الأشياخ من الصحابة، فالخبر مرسلٌ حسنُ الإسناد، لأنَّ الأشياخ جمعٌ من التابعين.
⚖️ درجۂ حدیث: اگر ان اساتذہ میں سے کوئی صحابی نہیں ہے، تب بھی یہ روایت "مرسلِ حسن" ہے کیونکہ یہ کثیر تابعین کا مجموعہ ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 433 - 435 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. غير أنه جاء فيه: وهم فيما يزعُمون .. فذكرهم وذكر قُطبةَ بنَ عامر من بينهم وقائل ذلك ابن إسحاق نفسُه، فدل ذلك على أنَّ تسميتهم من قول ابن إسحاق بلاغًا، أُدرج هنا عند المصنف في رواية عاصم بن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (2/433) میں اسے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں راویوں کے ناموں کی صراحت دراصل ابن اسحاق کا اپنا "بلاغ" ہے جسے مصنف (حاکم) نے عاصم بن عمر کی روایت میں مدرج (شامل) کر دیا ہے۔
وكذلك جاء في "السيرة النبوية" لابن هشام 1/ 428 - 429 مصرحًا به - وهي من روايته عن زياد البكائي عن ابن إسحاق - حيث جاء فيها ما نصه: قال ابن إسحاق: وهُم فيما ذُكر لي ستة نفرٍ من الخزرج، فذكرهم.
📖 حوالہ / مصدر: "سیرت ابن ہشام" (1/428) میں صراحت ہے کہ ابن اسحاق نے کہا: "مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ خزرج کے چھ افراد تھے" اور پھر ان کے نام ذکر کیے۔
وكذلك جاء في "دلائل النبوة" لأبي نعيم (223) من طريق إبراهيم بن سعد، عن ابن إسحاق، به. قال: وهُم فيما ذُكر لي ستة نفر من الخزرج.
📖 حوالہ / مصدر: ابونعیم کی "دلائل النبوۃ" (223) میں بھی ابراہیم بن سعد عن ابن اسحاق کے طریق سے یہی چھ افراد مذکور ہیں۔
لكن جاء في "مغازي الأموي" كما في "الرقة والبكاء" لابن قدامة ص 120 عن سعيد بن يحيى الأموي، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، أنه حدثه رجال من قومه ممن لا يُتّهم، فذكر أسماء النفر.
📖 حوالہ / مصدر: جبکہ "مغازی الاموی" (حوالہ الرقہ والبکاء ص 120) میں ہے کہ ابن اسحاق کو ان کی قوم کے "غیر متہم" (قابل اعتماد) لوگوں نے ان افراد کے نام بتائے تھے۔
فظاهر هذا أن يكون محمدُ بنُ إسحاق عرف أسماءَ هؤلاء النفر من عِدَّة طرق، أحدها الطريق عاصم بن عمر بن قتادة، كما تُشير إليه رواية الواقدي عند ابن سعد، حيث روى تسمية النفر بطُرق أحدها طريق عاصم بن عمر بن قتادة. وروى الواقدي أسماءهم أيضًا كما في "طبقات ابن سعد" 1/ 187 عن محمد بن أنس بن فضَالة الظَّفَري، مرسلًا، وعن جعفر بن عبد الله بن الحكم مرسلًا، وعن عبادة بن الصامت موصولًا، وقد تابعه عليه ابن إسحاق لكنه لم يُسَمِّ النفر عند أحمد 37/ (22754) وغيره. لكن عبادة ذكر أنهم كانوا اثني عشر رجلًا لا ستّة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: بظاہر ابن اسحاق کو یہ نام متعدد طرق سے معلوم ہوئے تھے۔ 📝 نوٹ / توضیح: واقدی نے اسے حضرت عبادہ بن صامت سے "موصول" بھی روایت کیا ہے، مگر عبادہ کی روایت میں ان کی تعداد چھ کے بجائے "بارہ" بتائی گئی ہے۔
وممَّن ذكر قطبة بن عامر في النفر الذين شهدوا العقبة ابن شهابٍ الزهري عند الفاكهي في "أخبار مكة" (2547)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1823).
📖 حوالہ / مصدر: امام زہری نے فاكہی (اخبار مکہ 2547) اور ابن ابی عاصم (1823) کے ہاں قطبہ بن عامر کو بیعتِ عقبہ میں شریک ہونے والوں میں شمار کیا ہے۔
وممن ذكر بيعة العقبة الأولى هذه لكن دون تسمية النفر عكرمة مولى ابن عباس عند عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 129، وسُنيد بن داود كما في "الاستيعاب" لابن عبد البر ص 21، والطبري في "تفسيره" 4/ 35 لكنه ذكر أن عدتهم كانت ستة، وفاقًا لابن إسحاق في روايته عن عاصم بن عمر بن قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: عکرمہ مولیٰ ابن عباس (تفسیر عبدالرزاق 1/129) اور طبری (4/35) نے بھی اس بیعت کا ذکر کیا ہے اور ابن اسحاق کی موافقت میں ان کی تعداد چھ ہی بتائی ہے۔
ولابن إسحاق رواية أخرى عن عبد الله بن أبي بكر وعبيد الله بن المغيرة بن مُعيقيب مرسلًا عند البيهقي في "الدلائل" 2/ 438، وابن الأثير في "أسد الغابة" 4/ 405: أنَّ عدتهم كانت اثني عشر رجلًا!!
🧾 تفصیلِ روایت: ابن اسحاق کی ایک دوسری "مرسل" روایت (بیہقی 2/438) میں ان کی تعداد بارہ بتائی گئی ہے۔