🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

249. ذِكْرُ قُطْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5065
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني يزيد بن رُومان، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أمر بالقَلِيب فطُرِحُوا فيه، فوقفَ عليهم رسولُ الله ﷺ، فقال:"يا أهلَ القَلِيبِ، هل وَجَدتُم ما وَعَدَ رَبُّكم حقًّا؟ فإني وجدتُ ما وَعَدني ربي حقًّا"، فقال أصحابُه: يا رسول الله، تكلِّم أقوامًا مَوتَى؟ فقال:"لقد علموا أنَّ ما وعدكم ربُّكم حقٌّ"، فلما أمَرَ بهم فَسُحِبُوا، عُرِف في وجه أبي حُذيفةَ بن عُتبة الكراهيَةُ وأبوه يُسحَبُ إلى القَلِيب، فقال له رسولُ الله ﷺ:"يا أبا حذيفةَ، والله لكأنه ساءَكَ ما كان في أبيك؟" فقال: والله يا رسول الله، ما شَكَكتُ في الله وفي رسول الله، ولكن أنْ كان حليمًا سديدًا ذا رأي، فكنتُ أرجُو أن لا يموتَ حتى يَهديَه الله ﷿ إلى الإسلام، فلما رأيتُ أن قد فاتَ ذلك ووَقَع حيث وَقَع، أحزَنَني ذلك، قال: فدعا له رسولُ الله ﷺ بخَيرٍ (3) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ قُطْبةَ بن عامر الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4995 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کافروں کی لاشوں کو) قلیب (کنویں میں پھینکنے کا) حکم دیا۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کو کنویں میں پھینک دیا گیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنویں پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: اے کنویں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بے شک میرے ساتھ میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اس کو سچ پایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مرے ہوؤں سے گفتگو فرما رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک انہوں نے جان لیا ہے کہ جو ان کے رب نے وعدہ کیا تھا وہ برحق ہے۔ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ان کو گھسیٹ کر کنویں میں پھینکا جا رہا تھا تو جب سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے باپ کو پھینکا جا رہا تھا تو ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار بالکل نمایاں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ خدا کی قسم! تیرے باپ کے ساتھ جو معاملہ ہوا ہے اس نے تجھے پریشان کیا ہے۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! میں نے کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں شک نہیں کیا بلکہ اصل بات یہ کہ میرا باپ بردبار، سیدھا سادھا، اور سمجھ بوجھ والا تھا، میری یہ آرزو تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اسلام کی ہدایت عطا فرما دیتا۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ فوت ہو گیا ہے تو اس وجہ سے مجھے شدید غم لاحق ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ابوحذیفہ) کے لئے دعائے خیر فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5065]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5066
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُرْوة، قال: وقُطبة بن عامر بن حَدِيدَة شَهِدَ مع رسول الله ﷺ بدرًا، وهو الذي أنزل فيه: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا﴾ [البقرة: 189] ، وأخوه يزيد بن عامر بن حَديدة، ويُكنّى يزيدُ أبا المنذر (1) .
سیدنا عروہ فرماتے ہیں: سیدنا قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ گھروں میں پچھیت توڑ کر آؤ ۔ ان کے بھائی سیدنا یزید بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ ہیں، یزید کی کنیت ابوالمنذر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5066]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5067
حدثنا أبو العباس، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن أشياخٍ من قومه: خرجَ رسولُ الله ﷺ في المَوسِم الذي لَقِيَه فيه النفرُ من الأنصار، فعَرَض نفسَه على قبائل العرب، ثم انصرفُوا عن رسول الله ﷺ راجِعين إلى بلادهم قد آمنُوا وصَدَّقوا، منهم قُطْبة بن عامر بن حَديدةَ (1) .
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے اساتذہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حج کے موقع پر نکلے جس میں انصاریوں کے ایک وفد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو عرب کے قبائل کے لئے پیش فرمایا تھا پھر یہ لوگ ایمان قبول کر کے اپنے اپنے قبیلوں کی طرف واپس لوٹ گئے تھے۔ ان میں سیدنا قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5067]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں