المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
273. إخبار النبى بشهادة قيس بن ثابت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا قیس بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دینا
حدیث نمبر: 5104
أخبرني الإمام أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن قُريش الوَرّاق قالا: حدثنا الحَسَن بن سفيان حدثنا وهْب بن بَقيّة، أخبرنا خالد عن حُميد، عن أنس، قال: خَطَبَ ثابتُ بن قيس عند مَقدَمِ النبيّ ﷺ المدينةَ، فقال: نمنُعك مما نَمنعُ منه أَنفُسَنا وأولادَنا، فما لنا؟ قال:"الجنةُ" قال: رَضِينا (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5033 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5033 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے کہا: ہم تمہیں اسی چیز سے روکتے ہیں جس سے اپنے آپ کو اور اپنی اولادوں کو روکتے ہیں، تو ہمیں اس میں کیا اجر ملے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت۔ انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5104]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5104 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، وخالد هو ابن عبد الله الواسطي الطحّان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ "حمید" سے مراد ابن ابی حمید الطویل ہیں، اور "خالد" سے مراد ابن عبد اللہ الواسطی الطحان ہیں۔
وأخرجه النسائي (8171) من طريق خالد بن الحارث، عن حميد الطويل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج نسائی (8171) نے خالد بن حارث عن حمید الطویل کے طریق سے کی ہے۔
وقد تقدَّم مثله برقم (4299) من حديث جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ للنقباء من الأنصار: "تؤونني وتمنعوني؟ " قالوا: نعم، فما لنا؟ قال: "الجنة". وهو حديث صحيح أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: اس جیسی روایت نمبر (4299) پر جابر بن عبد اللہ ؓ سے گزر چکی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے انصار کے نقیبوں سے فرمایا: "کیا تم مجھے پناہ دو گے اور میری حفاظت کرو گے؟" انہوں نے کہا: جی ہاں، تو ہمارے لیے کیا (اجر) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جنت"۔ یہ حدیث بھی "صحیح" ہے۔