المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. استعمال آنية أهل الكتاب والمشركين
اہلِ کتاب اور مشرکین کے برتنوں کے استعمال کا حکم۔
حدیث نمبر: 511
فأخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو سَلَمة وحجَّاج بن مِنْهال قالا: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماءَ الرَّحَبي، عن أبي ثعلبة الخُشَني أنه قال: يا رسول الله، إنا بأرضِ أهل الكتاب، فنَطَبُخُ في قُدورِهم، ونَشرَبُ في آنيتِهم؟ قال:"فإن لم تَجِدُوا غيرَها فارحَضُوها" (1) . وأما حديث هُشَيم:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں پکائیں اور ان کے برتنوں میں پییں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو لو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 511]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 511 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو سلمة: هو موسى بن إسماعيل التَّبُوذكي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو سلمہ سے مراد موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17750)، والترمذي (1797) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17750) اور ترمذی (1797) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقرن حماد بن سلمة بأيوب عند الترمذي، قتادةَ، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
🧾 تفصیلِ روایت: امام ترمذی کے ہاں حماد بن سلمہ کو (ان کے استاذ) قتادہ بن دعامہ سے روایت کرنے میں ایوب سختیانی کے ساتھ مقرون کیا گیا ہے (یعنی دونوں نے مل کر روایت کی ہے)۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس روایت کو "حدیث حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
قوله: "ارحضوها" أي: اغسلوها بالماء.
📝 نوٹ / توضیح: قولِ مبارک "ارحضوها" کا لغوی و فنی مطلب یہ ہے کہ: "اسے پانی سے دھو ڈالو"۔