🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ
اہلِ کتاب اور مشرکین کے برتنوں کے استعمال کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الرَّبيع؛ قالا: حدثنا حمَّاد بن زيد، حدثنا أيوب، عن أبي قِلَابة: أَنَّ أَبا ثَعْلبة (1) الخُشَني أتى النبيَّ ﷺ فقال: قلت: يا رسول الله، إنا بأرضٍ أرضِ أهل كتابٍ، يشربون الخمور ويأكلون الخنازير، فما ترى في آنيَتِهم وقُدورِهم؟ فقال:"دَعُوها ما وجدتُم عنها بُدًّا، فإذا لم تَجِدُوا عنها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء" أو قال:"انضَحُوها بالماء"، ثم قال:"اطبُخُوا فيها وكُلُوا". قال حماد: وأحسَبُه قال:"واشرَبوا" (2) . وهكذا رواه شعبة عن أيوب:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ شراب پیتے ہیں اور خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں، تو ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور متبادل مل سکے تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو لو، یا فرمایا: ان پر پانی چھڑک لو، پھر ان میں پکاؤ اور کھاؤ۔ حماد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اور پیو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب وأحمد بن عمر بن حفص قالوا: حدثنا عَمْرو بن مرزوق، أخبرنا شُعْبة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثَعْلبة الخُشَني: أنه سأل النبيَّ ﷺ فقال: إنا بأرضٍ عامَّتُه أهلُ كتاب، فكيف نَصنَعُ بآنيَتِهم؟ فقال:"دَعُوا ما وجدتُم منها بُدًّا، فإذا لم تجِدُوا منها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا" (1) . وهكذا رواه خالد الحذَّاء عن أبي قِلابة:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم ایسے علاقے میں ہیں جہاں کی اکثر آبادی اہل کتاب ہے، تو ہم ان کے برتنوں کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور صورت میسر ہو تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو کر ان میں پکاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم، حدثنا نصر بن علي، حدثنا أبو أحمد، حدثنا سفيان، عن خالدٍ، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألت النبيَّ ﷺ عن آنيةِ المشركين، فقال:"اغسِلُوها ثم اطبُخوا فيها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإن علَّلاه بحديث حمَّاد بن سَلَمة وهُشَيم عن خالد حيث زاد أبا أسماءَ الرَّحَبي في الإسناد، فإنه أيضًا صحيح يلزم إخراجه في"الصحيح"، على أنَّ أبا قِلابةَ قد سمع من أبي ثَعْلبة. أما حديث حمَّاد بن سَلَمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 504 - على شرطهما أَمَّا حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دھو لو پھر ان میں پکاؤ۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اگر اس کی علت حماد بن سلمہ اور ہشیم کی روایت کو قرار دیا جائے جس میں خالد نے سند میں ابواسماء رحبی کا اضافہ کیا ہے، تب بھی یہ صحیح ہے اور اسے صحیح میں نقل کرنا لازم ہے، مزید یہ کہ ابوقلابہ نے ابوثعلبہ سے سماع کیا ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
فأخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو سَلَمة وحجَّاج بن مِنْهال قالا: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماءَ الرَّحَبي، عن أبي ثعلبة الخُشَني أنه قال: يا رسول الله، إنا بأرضِ أهل الكتاب، فنَطَبُخُ في قُدورِهم، ونَشرَبُ في آنيتِهم؟ قال:"فإن لم تَجِدُوا غيرَها فارحَضُوها" (1) . وأما حديث هُشَيم:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں پکائیں اور ان کے برتنوں میں پییں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 511]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، عن خالد الحذّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي أسماء [عن أبي ثعلبة الخُشَني قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: إنّا نَغزو ونسير في أرض] (2) المشركين، فنحتاجُ إلى آنيةٍ من آنيتهم فنطبخُ فيها، فقال:"اغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا فيها، وانتفِعُوا بها" (3) . كلا الإسنادين صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم مشرکین کے علاقے میں جنگ و سفر کی حالت میں ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے برتنوں کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا ہم ان میں پکائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی سے دھو لو پھر ان میں پکاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔
یہ دونوں سندیں امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 512]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں