🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
287. ذكر مناقب عكرمة بن أبى جهل واسم أبيه مشهور
سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان (اور ان کے والد کا نام معروف ہے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5131
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدّمشقي، حدثنا عبد الرحمن بن بَشير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني نافع، عن ابن عمر، قال: كنا نقولُ: ما لأحدٍ توبةٌ إذا تَرَكَ دينَه بعد إسلامه ومَعرفتِه، فأنزلَ الله فيهم: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [الزمر:53] وكتبتهُا بِيَدِي، ثم بعثتُ بها إلى هشامِ بن العاصِ بن وائل، فصاحَ بها، فجلس على بَعِيره، ثم لَحِق بالمدينة (1) . ذكرُ مناقب عِكرمةَ بن أبي جَهْل، واسمُ أبيه مشهورٌ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5054 - عبد الرحمن بن بشير منكر الحديث
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم یہ موقف رکھتے تھے کہ اگر کوئی شخص اسلام لانے کے اور اس کو پہچاننے کے بعد اس دین کو چھوڑ دے (معاذاللہ) تو اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلیٰ اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ (الزمر: 53) میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو میں نے یہ آیت خود اپنے ہاتھوں سے لکھی اور اسے ہشام بن عاص بن وائل رضی اللہ عنہ کی جانب بھیج دی، (یہ رحمت بھرا حکم پڑھ کر) ان کی ایک چیخ نکلی، پھر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور مدینہ شریف آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5131]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5131 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسنٌ من أجل محمد بن إسحاق وعبد الرحمن بن بَشِير - وهو الشَّيباني الدمشقي - لكن الصحيح أنَّ هذا الحديث لعمر بن الخطّاب يرويه عنه ابنه عبد الله بن عمر، كذلك جاء في سائر الروايات عن ابن إسحاق، كالرواية المتقدمة عند المصنف برقم (3670) من طريق عبد الله بن إدريس عن ابن إسحاق، وأغلبُ الظنّ أنَّ الوهم هنا في إسقاط ذكر عمر بن الخطاب من جهة عبد الرحمن بن بَشير الشيباني، فهو حسنُ الحديث في أقل أحواله حسب ما نقله ابن حجر في "اللسان" من أقوال الأئمة فيه، لكن ذكر أبو حاتم الرازي أنه يروي عن ابن إسحاق غير حديث منكرٍ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق اور عبد الرحمن بن بشیر (الشیبانی الدمشقی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علت: لیکن "صحیح" بات یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت عمر بن خطاب ؓ کی ہے جسے ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں، جیسا کہ ابن اسحاق کی دیگر تمام روایات میں آیا ہے (مثلاً مصنف کی سابقہ روایت نمبر 3670 جو عبد اللہ بن ادریس عن ابن اسحاق سے ہے)۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہاں حضرت عمر ؓ کا نام گر جانے کا "وہم" عبد الرحمن بن بشیر الشیبانی کی طرف سے ہوا ہے۔ ابن حجر نے "اللسان" میں ائمہ کے اقوال کی روشنی میں انہیں کم از کم "حسن الحدیث" قرار دیا ہے، لیکن ابو حاتم الرازی نے ذکر کیا ہے کہ وہ ابن اسحاق سے کئی "منکر" احادیث روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه الطبراني 22/ (462) عن جعفر بن محمد الفريابي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (22/462) نے جعفر بن محمد الفریابی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔