🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
303. كان خالد بن سعيد عاملا على اليمن فى عهد النبى
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ یمن کے عامل تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5161
أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن العاص، عن جدِّه، عن عَمِّه خالد بن سعيد: أنَّ سعيد بن العاص بن أميّة مَرِض، فقال: لئن رَفَعَني اللهُ من مَرَضي هذا لا يُعبَدُ إلهُ ابن أبي كَبْشَةَ ببَطْنِ مكة، فقال خالد بن سعيد عند ذلك: اللهم لا ترَفَعْه (1) . فأمَّا وفاةُ خالد بن سعيد وكُنْيتُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک سعید بن عاص بن امیہ بیمار ہو گیا، اس نے کہا: اگر وہ اس بیماری سے جانبر ہو گیا تو مکہ میں کبھی بھی ابن ابی کبشہ کے خدا کی عبادت نہیں ہو گی، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ہی تھے، کہنے لگے: اے اللہ! اس کو شفا نہ دے۔ چنانچہ وہ اسی بیماری میں مر گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5161]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5161 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات، لكنه منقطع، فإنَّ سعيد بن العاص - وهو سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص بن سعيد بن العاص بن أميّة، نسب هنا لجد أبيه الأدنى أو الأعلى - لا يُدرك خالدَ بن سعيد بن العاص، وقد سمع سعيدُ بن عمرو هذا من أم خالد بنت خالد بن سعيد، فلعله سمع هذا الخبر منها، فإن صحَّ ذلك اتصل الإسناد وكان صحيحًا، والله تعالى أعلم. وأخرجه ابن سعد 4/ 89، والطبراني في "الكبير" (4119)، وابن عساكر 16/ 176 من طرق عن عمرو بن يحيى، به.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "منقطع" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ "سعید بن العاص" (جو دراصل سعید بن عمرو بن سعید بن العاص بن سعید بن العاص بن امیہ ہیں، اور یہاں اپنے قریبی یا دور کے دادا کی طرف منسوب ہوئے ہیں) نے خالد بن سعید بن العاص کا زمانہ نہیں پایا۔ البتہ سعید بن عمرو نے "ام خالد بنت خالد بن سعید" سے سنا ہے، تو شاید انہوں نے یہ خبر ان سے سنی ہو۔ اگر ایسا ثابت ہو جائے تو سند متصل ہو جائے گی اور صحیح ہوگی، واللہ اعلم۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد [4/ 89]، طبرانی نے "الکبیر" (4119) اور ابن عساكر [16/ 176] نے عمرو بن یحییٰ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔