المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
316. سيد فتيان الجنة أبو سفيان
سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
حدیث نمبر: 5191
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"سيِّد فِتْيان الجنة أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب". حَلَقه الحلّاق بمِنًى، وفي رأسِه ثُؤلُول فقَطَعَه فمات، فيُرَون أنه شَهيد (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5112 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5112 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنتی نوجوانوں کے سردار ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ہیں۔ (راوی) کہتے ہیں: حلاق (سر مونڈنے والے) نے ان کا سر مونڈا تو ان کے سر میں مسہ (ایک ابھری ہوئی رگ) تھی، اس حلاق نے وہ رگ کاٹ دی جس کی وجہ سے وہ فوت ہو گئے، صحابہ کرام کا خیال ہے کہ وہ شہید ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5191]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5191 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات لكنه مرسل، كما قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 7/ 179.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" [7/ 179] میں فرمایا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 4/ 49، وابن أبي الدنيا في "الإشراف" (178) من طريقين عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" [4/ 49] میں، اور ابن ابی الدنیا نے "الاشراف" (178) میں حماد بن سلمہ سے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔