المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
317. لا يترحم الله على أمة لا يأخذ الضعيف منهم حقه من القوي
اللہ تعالیٰ اس امت پر رحم نہیں فرماتا جو اپنے کمزور کا حق طاقتور سے نہ دلوا سکے
حدیث نمبر: 5192
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب (2) ، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن كَثير بن العباس بن عبد المطلب، عن أبيه، قال: شهدتُ مع رسولِ الله ﷺ يومَ حُنَين، فلقد رأيتُه وما معه إلَّا أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وهو آخِذٌ بلِجَام بَغلةِ رسول الله ﷺ، وهو راكبُها، وأبو سفيان لا يألُو أن يُسرعَ نحوَ المشركين (3) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5113 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5113 - على شرط البخاري ومسلم
کثیر بن عباس بن عبدالمطلب اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، اس جنگ میں ایسا وقت بھی آیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف میں اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے، ابوسفیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار تھے اور ابوسفیان مشرکین کی جانب پیش قدمی کرنے میں ذرا بھی سستی نہیں کر رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5192]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5192 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ب) والمطبوع إلى: علي بن عبد المطّلب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ب) اور مطبوعہ نسخے میں یہ نام تحریف ہو کر "علی بن عبدالمطلب" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده صحيح. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عُيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): "ابن ابی عمر" سے مراد "محمد بن یحییٰ بن ابی عمر العدنی" ہیں، اور "سفیان" سے مراد "ابن عیینہ" ہیں۔
وأخرجه مسلم (1775) عن ابن أبي عمر، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1775) نے ابن ابی عمر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (سہو) ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1775)، ومسلم (1775) (77)، والنسائي (8593)، وابن حبان (7049) من طريق معمر بن راشد، عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد [3/ (1775)]، مسلم [1775 (77)]، نسائی (8593) اور ابن حبان (7049) نے معمر بن راشد کے طریق سے، انہوں نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي مطولًا عند المصنف برقم (5505) من طريق يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت تفصیل کے ساتھ مصنف کے ہاں آگے نمبر (5505) پر یونس بن یزید الایلی عن الزہری کے طریق سے آئے گی۔