🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
328. كَانَ عُتْبَةُ مِنَ الرُّوَاةِ الْمَذْكُورِينَ
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نامور تیراندازوں میں سے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5217
حدثنا أبو عبد الله بن بُطّة، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه، في ذكر عُتبةَ بن غَزْوان، قالوا: كنيتُه أبو عبد الله، وقيل: أبو غَزْوان، وكان فيما ذُكِرَ رجلًا طُوالًا جميلًا، وكان قديمَ الإسلام، وهاجَرَ إِلى أرضِ الحَبَشة الهجرةَ الثانية، وكان من الرُّماة المذكُورين من أصحاب رسول الله ﷺ، وهو الذي بَصَّر البصرةَ، ومات في خلافة عمر بن الخطاب، بمَعدِنِ بني سُلَيم، وهو ماضٍ إلى البصْرة واليًا عليها مِن قِبَل عمر بن الخطاب، فقَدِمَ غُلامُه سويدٌ على عمر بمَتاعِه وتَرِكَتِه. قال ابن عُمر: وإنما مات عُتبة بن غَزْوان سنة خمسَ عشرةَ، ويقال: سبعَ عشرةَ، وهو ابن سبعٍ وخَمسين (2) .
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ذکر میں روایت کرتے ہیں کہ ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور ایک قول کے مطابق ابو غزوان تھی، ان کے متعلق منقول ہے کہ وہ دراز قد اور وجیہ انسان تھے، وہ قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے اور انہوں نے سرزمین حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں نامور تیر اندازوں میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے ہی بصرہ شہر کو آباد کیا تھا، ان کی وفات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں معدن بنی سلیم کے مقام پر ہوئی جب وہ سیدنا عمر کی طرف سے بصرہ کے گورنر کی حیثیت سے وہاں جا رہے تھے، پھر ان کا غلام سوید ان کا سامان اور ترکہ لے کر سیدنا عمر کے پاس حاضر ہوا، ابن عمر فرماتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان کی وفات سنہ 15 ہجری میں ہوئی اور ایک قول کے مطابق 17 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر 57 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5217]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5217] [ترقيم الشركة 5172]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5217 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وهو عند ابن سعد في "طبقاته الكبرى" 3/ 92 و 9/ 5 و 7 من قوله هو، وبعضه ينسبه لشيخه محمد بن عمر الواقدي، لكنه قال: فمات في البصرة سنة سبع عشرة، هكذا جزمًا.
📖 حوالہ / مصدر: (2) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" [3/ 92 اور 9/ 5، 7] میں ان کے اپنے قول سے ہے، اور کچھ حصہ وہ اپنے شیخ واقدی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: "وہ بصرہ میں سن 17 ہجری میں فوت ہوئے"، اور اس پر یقین (جزم) کیا۔
وفي سنة وفاتة وسنه يوم توفي خلاف انظره في "تاريخ بغداد" 1/ 497 - 499.
📝 نوٹ / توضیح: ان کی وفات کے سال اور عمر میں اختلاف ہے، جسے آپ "تاریخ بغداد" [1/ 497-499] میں دیکھ سکتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5217 in Urdu