المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
346. إِنَّ مُعَاذًا ( كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ )
بے شک سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے لیے پوری طرح فرمانبردار ایک امت تھے
حدیث نمبر: 5273
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه، قال: كان معاذُ بنُ جَبَل شابًا حليمًا سَمْحًا من أفضل شبابِ قومِه، ولم يكن يُمسِكُ شيئًا، فلم يَزَل يَدّانُ حتى أغرقَ مالَه كلَّه في الدَّين، فأتى النبيَّ ﷺ، فكَلَّم غُرماءَه، فلو تَركُوا أحدًا من أجل أحدٍ، لَتَركُوا معاذًا من أجلِ رسول الله ﷺ، فباعَ لهم رسولُ الله ﷺ مالَه، حتى قامَ معاذٌ بغيرِ شيء (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک بردبار اور سخی نوجوان تھے اور وہ اپنی قوم کے بہترین جوانوں میں سے تھے، وہ اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ مسلسل قرض لیتے رہے اور قرض کے بوجھ نے ان کے تمام مال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قرض خواہوں سے بات کی، اگر وہ کسی کی خاطر اپنا حق چھوڑنے والے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر معاذ کا قرض چھوڑ دیتے، لیکن (جب انہوں نے ایسا نہ کیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سارا مال بیچ کر ان کے قرض کی ادائیگی کی یہاں تک کہ معاذ کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5273]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5273]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات لكن الصحيح أنه مرسل كما تقدم بيانه برقم (2379).» [ترقيم الرساله 5273] [ترقيم الشركة 5228] [ترقيم العلميه 5192]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5273 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات لكن الصحيح أنه مرسل كما تقدم بيانه برقم (2379).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ "مرسل" ہے جیسا کہ نمبر (2379) کے تحت بیان ہو چکا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5273 in Urdu