🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
357. ذكر مناقب الحارث بن هشام المخزومي رضى الله عنه
سیدنا حارث بن ہشام مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ طاعونِ عمواس میں وفات پا گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5293
أخبرني الحسن بن حَلِيم الدهقان بمَرُو، حدثنا محمد بن عمرو الفَزَاري، أخبرنا عَبْدان بن عُثمان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا الأسود بن شَيبان، عن أبي نَوفَل بن أبي عَقْربٍ، قال: خرج الحارثُ بن هشام من مكة، فجَزعَ أهلُ مكة جزعًا شديدًا، ولم يَبْقَ أحدٌ إِلَّا خرج يُشيِّعه، حتى إذا كان بأعلى صُوَى (1) البطحاء، أو حيثُ شاء الله من ذلك، وقف ووقف الناسُ حولَه يبكون، فلما رأى جزعَ الناسِ، قال: يا أيُّها الناسُ، ما خرجتُ رغبةً بنفسي عن أنفُسِكم، ولا اختيارَ بلدٍ على بلدِكم، ولكن هذا الأمرَ قد كان خرج فيه رجالٌ من قريش، والله ما كانوا من ذوي أنسابِها، ولكن من بُيوتاتِها (2) ، فأصبحتُ واللهِ لو أنَّ جِبالَ مكةَ ذهبًا فأَنفقْنا (3) في سبيل الله، ما أدرَكْنا من أيامِهم، وايْمُ اللهِ لئن بايَنُونا في الدنيا، لَنلْتمِسُ أن تُشارِكَهم في الأَجْر، فاتقى الله امرؤٌ خَرَج غازيًا (4) إلى الشام، فأُصيبَ شهيدًا (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5211 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابونوفل بن ابوعقرب فرماتے ہیں: سیدنا حارث بن ہشام مکہ سے جب نکلے تو اہل مکہ بہت زیادہ رونے دھونے لگ گئے، اور ہر شخص ان کو الوداع کرنے کے لئے مکہ سے باہر آیا اور جب بطحاء کی بلندی پر پہنچے یا جہاں انہوں نے چاہا تو وہ رک گئے اور تمام لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو کر رونے لگ گئے۔ جب انہوں نے لوگوں کی یہ گریہ زاری دیکھی تو فرمایا: اے لوگو! تمہیں چھوڑ کر جانے میں میرے دل کی خوشی شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات ہے کہ میں نے تمہارے شہر سے بڑھ کر کسی اور شہر کو سمجھ لیا ہے۔ لیکن (یہ حکم ہے) اور یہ ہو کر ہی رہے گا، ان میں بہت سارے قریشی لوگ بھی موجود تھے جو کہ نہ تو ان کے نسبی رشتہ دار تھے اور نہ پڑوسی تھے (وہ کہنے لگے) خدا کی قسم! اگر مکہ کے تمام پہاڑ سونا بن جائیں اور ہم وہ تمام راہ خدا میں خرچ کر ڈالیں تب بھی ہم ان کے دنوں جیسا ایک دن بھی نہیں پا سکتے۔ خدا کی قسم اگر یہ لوگ دنیا میں ہم سے جدا ہو رہے ہیں تو ہم آخرت میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ وہ مجھے مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمائے۔ چنانچہ وہ شام کی جانب مجاہد بن کر گئے اور مقام شہادت پایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5293]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5293 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) الصُّوى: جمع صُوَّة، وهو ما غَلُظ وارتفع من الأرض، ولم يبلغ أن يكون جبلًا.
📝 نوٹ / توضیح: (1) "الصُّویٰ": یہ صُوَّۃ کی جمع ہے۔ اس سے مراد زمین کا وہ حصہ ہے جو سخت اور اونچا ہو، لیکن پہاڑ کے درجے تک نہ پہنچا ہو۔
(2) رسمت العبارة في (ز) و (ص): ولكن من ـمر باها، وكذلك في (م) لكن جاء فيها: مر ـمر باها، ولم نتبين وجهها، والغالب أنها تحرَّفت عما أثبتناه من "الجهاد" لابن المبارك (101)، ومن طريقه رواه غيره كذلك، لكن جاء عندهم: ولا من بيوتاتها، بالنفي، والمثبت من نسخنا الخطية معناه حسنٌ، كأنه يقول: ليسوا من ذوي أنسابها، لكنهم من أحلافهم ومواليهم ممّن يُساكنهم مكة، والله تعالى أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (ز) اور (ص) میں عبارت "ولکن من ـمر باہا" اور (م) میں "مر ـمر باہا" لکھی گئی ہے، جس کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ غالب گمان ہے کہ یہ ابن المبارک کی "الجہاد" (101) کی عبارت سے تحریف ہوئی ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کی ہے۔ ابن المبارک کے طریق سے دوسروں نے بھی اسے روایت کیا ہے، لیکن وہاں "ولا من بیوتاتھا" (نفی کے ساتھ) آیا ہے۔ جو ہمارے قلمی نسخوں سے (اثبات کے ساتھ) ثابت کیا گیا ہے اس کا معنی عمدہ ہے؛ گویا وہ کہہ رہے ہیں: وہ ان (قریش) کے اونچے خاندانوں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کے حلیفوں اور موالیوں میں سے ہیں جو مکہ میں ان کے ساتھ رہتے ہیں، واللہ اعلم۔
(3) في (ص) و (م): فأُنفقت، والمثبت من (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ص) اور (م) میں "فأُنفقت" ہے، جو متن میں ثابت کیا گیا ہے وہ (ز) اور (ب) سے ہے۔
(4) في (ز): غاديًا، بالدال المهملة بدل الزاي.
📝 نوٹ / توضیح: (4) نسخہ (ز) میں یہ لفظ "غادیاً" (دال کے ساتھ) ہے، زاء (غازیاً) کی بجائے۔
(5) رجاله ثقات، لكنه مرسلٌ، فإنَّ أبا نوفل بن أبي عقرب لم يدرك الحارث بن هشام.
⚖️ درجۂ حدیث: (5) اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے؛ کیونکہ ابو نوفل بن ابی عقرب نے الحارث بن ہشام کا زمانہ نہیں پایا۔
وهو عند ابن المبارك في "الجهاد" (101)، ومن طريقه أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 11/ 499.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابن المبارک کی "الجہاد" (101) میں ہے، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (11/ 499) میں تخریج کیا ہے۔