🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
358. ذكر مناقب ثعلبة بن صعير العدوي رضى الله عنه
سیدنا ثعلبہ بن صعیر عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5295
حدثنا أبو زكريا العَنْبَري، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عامر بن صالح الزُّبَيري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، عن الحارث بن هشام: أنه سألَ النبيَّ ﷺ: كيف يَنزِلُ عليكَ الوَحْيُ؟ فقال رسول الله ﷺ: في مثل"صَلْصَلَة الجَرَس، فيَفْصِمُ عني وقد وَعَيتُ ما قال، وهو أشدُّه عليَّ، وأحيانًا يأتيني المَلَكُ، فيتَمَثَلُ لي فيكلِّمُني فأَعِي ما يقول" (2) . لا أعلم أحدًا قال في هذا الحديث: عن عائشة عن الحارث، غيرَ عامر بن صالح، وقد رواه أصحابُ هشامٍ عن أبيه عن عائشة: أنَّ الحارث بن هشام سأل … ذكرُ مناقب ثَعْلبة بن صُعَيرٍ العَدَويّ ﵁ -
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی بجنے کی آواز کی طرح۔ اور جب وہ مجھ سے ختم ہوتی ہے تو میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں، اور یہ کیفیت مجھ پر بہت بھاری ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے تو میں اس کی باتوں کو یاد کر لیتا ہوں۔ ٭٭ (امام حاکم کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ عامر بن صالح کے علاوہ کسی راوی نے اس کی سند میں کہا ہو کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں حارث بن ہشام سے۔ البتہ ہشام کے کئی ساتھیوں نے ان کے والد کے حوالے بیان کیا ہے ام المومنین نے روایت کیا ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5295]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5295 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدًّا من أجل عامر بن صالح الزبيري، وخالفه غيره من الرواة فجعلوه من مسند عائشة، وهو المحفوظ. وهو في "مسند أحمد" 42/ (25253). وأخرجه أحمد 42/ (25252) و (25303 و 43 / (26198)، والبخاري (2) و (3215)، ومسلم (2333)، والترمذي (3634)، والنسائي (1008) و (11063)، وابن حبان (38) من طرق عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ الحارث بن هشام سأل رسول الله ﷺ .. الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند عامر بن صالح الزبیری کی وجہ سے "سخت ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: دیگر راویوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسند سے (مروی) بنایا ہے، اور یہی "محفوظ" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (42/ 25253) میں ہے۔ نیز اسے احمد (42/ 25252, 25303 اور 43/ 26198)، بخاری (2, 3215)، مسلم (2333)، ترمذی (3634)، نسائی (1008, 11063) اور ابن حبان (38) نے ہشام بن عروہ سے متعدد طرق کے ساتھ تخریج کیا ہے، وہ اپنے والد سے اور وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ: "الحارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا..." (الحدیث)
قوله: "فيَفْصِم" قال القاضي عياض في "المشارق" 2/ 160: يروي بفتح الياء وبضمها على ما لم يُسمَّ فاعلُه، ومعناه: ينفصل عني ويُقلع.
📝 نوٹ / توضیح: "فيَفْصِم": قاضی عیاض نے "المشارق" (2/ 160) میں فرمایا: یہ یاء کے زبر (فتحہ) اور پیش (ضمہ) دونوں طرح پڑھا جاتا ہے (ضمہ مجہول کے صیغے کے طور پر)، اور اس کا معنی ہے: وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے اور رک جاتا ہے (وحی کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے)۔