المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
366. حلية بلال رضى الله عنه
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی وضع قطع کا بیان
حدیث نمبر: 5316
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونُس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق: أنَّ أبا بكر اشترى بلالًا من أُميّة بن خَلَف، وأنه شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ، وكان أسودَ مُولَّدًا، اشتراه أبو بكر من أُميّة بن خَلَف، أعطاهُ أبو بكر غلامًا وأخذ بدلَه بلالًا، وكانت أمُّه اسمُها حَمَامة، وكانا أسلما جميعًا، وكان يُكنى أبا عبد الله، توفي بدمشق سنة عشرين، ويقال: ثمانَ عشرةَ (1) .
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: ابوبکر نے امیہ بن خلف سے بلال کو خریدا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے، ان کا رنگ پیدائشی طور پر کالا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو امیہ بن خلف سے خریدا، ان کے بدلے میں انہوں نے امیہ بن خلف کو ایک غلام دیا تھا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام ” حمامہ “ ہے۔ یہ دونوں ہی مسلمان ہو گئے تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ 20 ہجری کو دمشق میں ان کا انتقال ہوا۔ بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ 18 ہجری کو ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5316]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5316 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وانظر "السيرة النبوية" لابن هشام 1/ 681.
📖 حوالہ / مصدر: (1) مزید دیکھیں: ابن ہشام کی "السیرۃ النبویۃ" (1/ 681)۔