المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. الأمر بإسباغ الوضوء وتخليل الأصابع والمبالغة فى الاستنشاق
وضو کو اچھی طرح مکمل کرنے، انگلیوں کے خلال کرنے اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھانے کا حکم۔
حدیث نمبر: 532
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا يحيى بن سُلَيم، عن إسماعيل بن كَثير قال: سمعت عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، يحدِّث عن أبيه قال: كنت وافدَ بني المُنتفِق إلى رسول الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، أخبِرني عن الوضوء، فقال:"أَسبغِ الوُضوءَ، وخلِّلْ بين الأصابع، وبالِغْ في الاستنشاق إلّا أن تكون صائمًا" (1) . ولهذا الحديث شاهد عن ابن عباس:
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں بنو منتقق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو اچھی طرح (کامل) کیا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 532]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 532 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم: وهو الطائفي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ اس کی یہ سند یحییٰ بن سلیم الطائفی کی وجہ سے "حسن" کے درجے کی ہے۔
وأخرجه أبو داود (142) و (2366)، وابن ماجه (407) و (448)، والترمذي (788)، والنسائي (116)، وابن حبان (1054) و (1087) و (4510) من طرق عن يحيى بن سليم، بهذا الإسناد - وهو عند بعضهم مطوَّل بنحو ما سيأتي عند المصنف برقم (7271).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے (142، 2366)، ابن ماجہ نے (407، 448)، ترمذی نے (788)، نسائی نے (116) اور ابن حبان نے (1054، 1087، 4510) میں یحییٰ بن سلیم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: بعض محدثین کے ہاں یہ روایت تفصیل کے ساتھ مروی ہے جیسا کہ آگے نمبر (7271) پر آئے گی۔