🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. الْأَمْرُ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ وَالْمُبَالَغَةِ فِي الِاسْتِنْشَاقِ
وضو کو اچھی طرح مکمل کرنے، انگلیوں کے خلال کرنے اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھانے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 533
أخبرَناه بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا ابن أبي ذِئْب عن قارِظ بن عبد الرحمن (2) ، عن أبي غَطَفان المُرِّي، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"استَنثِروا مرَّتين بالِغَتين أو ثلاثًا" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 526 - هذا شاهد لخبر لقيط
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک میں مبالغے کے ساتھ دو یا تین مرتبہ پانی ڈال کر جھاڑا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل خالد بن مخلد وقارظ بن شيبة» [ترقيم الرساله 533] [ترقيم الشركة 528] [ترقيم العلميه 526]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 533 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هكذا وقع في الأصول التي بين أيدينا، وفي "إتحاف المهرة" 8/ 166: قارظ بن شيبة، وهو الصواب كما وقع في سائر مصادر التخريج، وليس في كتب الرجال من اسمه قارظ بن عبد الرحمن، فهو وهمٌ من المصنف أو من النساخ فيما بعد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود اصل نسخوں میں نام اسی طرح (قارظ بن عبدالرحمن) لکھا ہے، مگر "اتحاف المہرہ" (8/ 166) میں یہ "قارظ بن شیبہ" ہے اور یہی درست ہے جیسا کہ دیگر تمام مصادرِ تخریج میں ملتا ہے۔ کتبِ رجال میں "قارظ بن عبدالرحمن" نامی کسی راوی کا وجود نہیں ہے، لہٰذا یہ یا تو مصنف کا وہم ہے یا بعد میں آنے والے کاتبوں کی غلطی ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل خالد بن مخلد وقارظ بن شيبة.
⚖️ درجۂ حدیث: خالد بن مخلد القطوانی اور قارظ بن شیبہ کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (2011) و 5/ (2887) و (3296)، وأبو داود (141)، وابن ماجه (408)، والنسائي (97) من طرق عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (3/ 2011، 5/ 2887، 3296)، ابوداؤد نے (141)، ابن ماجہ نے (408) اور نسائی نے (97) میں محمد بن عبدالرحمن ابن ابی ذئب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والاستنثار: هو نَثْر ما في الأنف بالنَّفَس.
📝 نوٹ / توضیح: "الاستنثار" سے مراد ناک میں پانی ڈال کر سانس کے ذریعے اسے باہر نکالنا اور ناک صاف کرنا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 533 in Urdu