🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
377. ذكر أسيد بن حضير الأنصاري رضى الله عنه
سیدنا اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5337
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وأنس بن مرثد بن أبي مرثد الغَنَوي يُكنى أبا يزيدَ، حليفُ حمزةَ بن عبد المُطّلب، وكان مَوتُه سنةَ عشرين، في شهر ربيع الأول، وكان بينَه وبين أبيه في السِّنّ إحدى وعشرون سنةً (1) . قد ذكرتُ فيما تقدَّم أبا مَرثَد الغَنَوي وبعدَه ابنَه مَرثَد (2) ، وهذا الحفيد، وكلُّهم من الصحابة ﵃. ذكرُ أُسَيد بن حُضَير الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5255 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ انس بن مرثد ابن ابی مرثد غنوی کنیت ابویزید، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف تھے، ان کی وفات 20 ہجری کو ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔ ان کا اپنے والد سے عمر کے لحاظ سے 21 برس کا فرق ہے، اس سے پہلے ہم ابومرثد غنوی کا تذکرہ کر آئے ہیں، اور ان کے بعد ان کے بیٹے مرثد کا ذکر کیا اور یہ ان کے پوتے ہیں۔ اور یہ تمام کے تمام صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5337]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5337 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 5/ 105 عن محمد بن عمر الواقدي عن شيخ من غَنِيٍّ.
📖 حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (5/ 105) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے، جو قبیلہ "غنی" کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں۔
كذا نقله الواقديُّ عن شيخ غنويٍّ. وسمَّى الرجلَ أُنيسًا، بالتصغير. قال ابن عبد البر في "الاستيعاب" (48): أنيس بن مرثد … ويقال أنس، والأول أكثر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: واقدی نے اسے اسی طرح ایک غنوی شیخ سے نقل کیا ہے اور اس آدمی کا نام (تصغیر کے ساتھ) "اُنیس" بتایا ہے۔ ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (48) میں کہا: "انیس بن مرثد... اور انہیں انس بھی کہا جاتا ہے، لیکن پہلا قول (انیس) زیادہ (رائج) ہے۔"
(2) تقدما برقم (5034) وما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: (2) یہ دونوں نمبر (5034) اور اس کے بعد گزر چکے ہیں۔