🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
390. ذكر النعمان بن مقرن رضى الله عنه وهو النعمان بن عمرو بن مقرن المزني
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان، جو نعمان بن عمرو بن مقرن مزنی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5357
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أزهَرُ بن جَميل، حدثنا عمر بن حفص، عن ثابت، عن أنس بن مالك، قال: لما كان يومُ العَقَبة بفارسَ، وقد زُوِيَ الناسُ قام البراءُ بنُ مالك، فرَكِب فرسَه، وهي توَجْى (1) ، ثم قال لأصحابه: بئسَ ما عَوّدتُم أقرانَكم عليكم، فحَمَل على العدوِّ، فَفَتَح اللهُ على المسلمين، واستُشهد البراءُ يومئذٍ (2) . قال أبو عِمران موسى بن هارون: إنَّ البراء استُشهِد يوم تُستَر، وهي من فارس، وإنما استُشهد البراء بن مالك سنة إحدى وعشرين من الهجرة. ذكرُ النُّعمان بن مُقَرِّن، وهو النُّعمان بن عمرو بن مُقرِّن ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5275 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فارس میں جب عقبہ کا دن تھا اور مسلمانوں کا گھیراؤ کر لیا گیا تھا۔ تو سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ان کا گھوڑا بہت کمزور تھا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: کتنا ہی برا ہے جو تم نے اپنے ساتھیوں کو اپنے اوپر عادت ڈال رکھی ہے۔ پھر وہ جنگ میں کود گئے، الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور اسی دن سیدنا براء رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ سیدنا ابوعمران موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں: سیدنا براء رضی اللہ عنہ تستر کے دن شہید ہوئے، ان کا تعلق فارس سے تھا۔ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ 21 ہجری کو شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5357]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5357 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رُسمت هذه اللفظة في (ص) و (م) و (ب) وهامش: (ز) برحا، وأعجمت في "تلخيص الذهبي": ترجا، وفي المطبوع: تزجى، والمثبت من (ز) هو الموافق لما في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 4/ 332 و 9/ 17، والمعنى: أنَّ فرسه كانت تشتكي باطن حافرها، أو أنها قد رقَّ حافِرُها من كثرة المشي. وقد يصحُّ ما جاء في سائر نسخنا الخطية بأن يُضبط: تُزجا، بمثناةٍ ثم زاي ثم جيم، فتكون بمعنى: تُدفَع برفق، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: (1) یہ لفظ نسخہ (ص، م، ب) اور (ز) کے حاشیہ میں "برحا" لکھا گیا، ذہبی کی "تلخیص" میں "ترجا" نقطوں کے ساتھ، اور مطبوعہ میں "تزجی"۔ جو نسخہ (ز) سے (متن میں) ثابت کیا گیا ہے وہ "طبقات ابن سعد" (4/ 332 اور 9/ 17) کے موافق ہے۔ اس کا معنی ہے کہ: اس کے گھوڑے کے کھر میں تکلیف تھی یا زیادہ چلنے سے کھر پتلا ہو گیا تھا۔ دیگر نسخوں میں موجود لفظ "تُزجَا" (تاء، زاء، جیم) بھی صحیح ہو سکتا ہے، جس کا معنی ہوگا: اسے نرمی سے ہانکا جاتا تھا، واللہ اعلم۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عمر بن حفص - وهو أبو حفص العَبْدي - فهو متروك الحديث، وما قبله أصحُّ منه. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ سند "عمر بن حفص" (ابو حفص العبدی) کی وجہ سے "سخت ضعیف" ہے، وہ "متروک الحدیث" ہیں۔ اس سے پہلے والی سند اس سے زیادہ صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "ثابت" سے مراد: ابن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته الكبرى" 4/ 332 و 9/ 17 عن عمر بن حفص، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (4/ 332 اور 9/ 17) میں عمر بن حفص سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد صحَّ عن ثابت عن أنس بن مالك مثلُ هذه القصة والقولِ المنسوب للبراء بن مالك هنا لكن لثابت بن قيس بن شمّاس يوم اليمامة، وليس بفارس كما تقدَّم برقم (5106)، وإسناده صحيح. فكأنَّ هذا هو أصل القصة، ثم اختلط الأمر على حفص بن عمر العَبْدي، فدخل له حديث في حديثٍ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ثابت سے (جو انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں) اسی طرح کا قصہ اور قول جو یہاں براء بن مالک کی طرف منسوب ہے، صحیح ثابت ہے، لیکن وہ "ثابت بن قیس بن شماس" کے لیے ہے جنگِ یمامہ کے موقع پر، اور وہ گھڑ سوار نہیں تھے (جیسا کہ نمبر 5106 میں گزرا)، اور اس کی سند صحیح ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اصل قصہ وہی ہے، پھر حفص بن عمر العبدی کو اشتباہ ہوا اور ایک حدیث دوسری میں خلط ملط ہو گئی۔