المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
393. ذكر مناقب قتادة بن النعمان الظفري وهو أخو أبى سعيد الخدري لأمه
سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان، جو امّی رشتے سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
حدیث نمبر: 5364
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا محمد بن رُسْتَه الأصبهاني، حدَّثنا سليمان بن داود الشاذكُوني، حدَّثنا محمد بن عمر، قال: وقَتَادة بن النُّعمان بن زَيد بن عَمرو بن سَوَاد بن ظَفَر - واسمُ ظَفَر كعبٌ - بن الخَزْرج بن عمرو - وهو النَّبِيت - ابن مالك بن أوس، وكان قَتَادة يُكنى أبا عمرو، وهو جَدُّ عاصم ويعقوب ابنَي عُمر بن قَتَادة، وكان عاصم بن عُمر من العلماء بالسِّيَر وغيرها، وشَهِد قَتَادة بن النُّعمان العقَبةَ مع السبعين من الأنصار، وكان من الرُّماة المذكورين من أصحاب رسول الله ﷺ، شهد بدرًا وأحُدًا، ورُمِيَت عينُه يومَ أحُد، فسالَتْ حَدَقَتُه على وَجْنَتِه، فأتى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنَّ عندي امرأةً أُحِبُّها، وإن هي رأت عَيني خَشِيتُ تَقذَرُها، فردَّها رسولُ الله ﷺ بيده فاستَوتْ ورجعت، وكانت أقوى عينَيه وأصحَّهما بعد أن كَبِر، وشهد أيضًا الخندقَ والمَشاهِد كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكانت معه رايةُ بني ظَفَرٍ في غزوة الفتح (2) .
محمد بن عمر کہتے ہیں: اور قتادہ بن نعمان بن یزید بن عمرو بن سواد بن ظفر۔ اور ظفر کا نام ”کعب بن خزرج بن عمرو“ ہے۔ یہ ”نبیت بن مالک بن اوس “ ہیں۔ سیدنا قتادہ کی کنیت ”ابوعمرو“ تھی، یہ سیدنا قتادہ کے دونوں بیٹوں عاصم اور یعقوب کے دادا ہیں۔ اور عاصم بن عمرو سیر وغیرہ کے علماء میں سے تھے۔ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ستر انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراه عقبہ میں شرکت کی تھی۔ اور جنگ احد میں تیر اندازوں میں بھی شامل تھے۔ جنگ بدر اور احد میں شرکت کی ہے۔ جنگ احد کے موقع پر ان کی آنکھ پر تیر لگا جس کی وجہ سے ان کی آنکھ باہر آ گئی تھی، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے، اگر اس نے میری یہ پھوٹی ہوئی آنکھ دیکھ لی تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ مجھ سے نفرت کرنے لگ جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ، آنکھ کے مقام پر لگا کر درست فرما دی، ان کی بینائی لوٹ آئی، بلکہ اس آنکھ کی بینائی دوسری سے زیادہ ہو گئی۔ اور بڑھاپے کے عالم میں بھی یہ آنکھ سلامت رہی۔ آپ جنگ خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے، اور فتح مکہ کے موقع پر بنی ظفر کا جھنڈا انہیں کے ہاتھوں میں تھا۔ ٭٭ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5364]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5364 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وهو عند ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 3/ 418 - 419. وممَّن ذكر قتادة بن النعمان في السبعين الذي شهدوا العقبة: هشامُ بن الكلبي في "نسبة معدّ واليمن الكبير" 1/ 382، وخليفة في "الطبقات" ص 81، وابنُ شهاب الزهري كما في "أخبار مكة" للفاكهي (2547)، و "الآحاد والمثاني" لابن أبي عاصم (1823)، وغيرهم. وقال ابن سعد 3/ 418: ولم يذكره محمد بن إسحاق في كتابه فيمن شهد العقبة!
📖 حوالہ / مصدر: (2) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/ 418-419) میں ہے۔ 📌 اہم نکتہ: قتادہ بن النعمان کو عقبہ میں شریک ہونے والے ستر صحابہ میں شمار کرنے والوں میں ہشام بن الکلبی ("نسب معدّ"، 1/ 382)، خلیفہ ("الطبقات"، ص 81) اور ابن شہاب الزہری (بحوالہ "اخبار مکہ"، 2547 اور "الآحاد والمثانی"، 1823) وغیرہ شامل ہیں۔ ابن سعد (3/ 418) نے کہا: "محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب میں عقبہ کے شرکاء میں ان کا ذکر نہیں کیا!"
وشهوده أُحُدًا وإصابته في حدقته ثم إعادة رسولِ الله ﷺ لها كما كانت وأحسن، رواه حفيدُه عاصم بن عمر بن قتادة عند ابن هشام في "السيرة" 2/ 82، وابن سعد 3/ 419، وابن أبي شيبة 12/ 161 و 14/ 397. وبعضهم وصله بذكر عمر بن قتادة عن أبيه قتادة بن النعمان، وبعضهم جعله عن عاصم عن جده قتادة مباشرة، وبعضهم يجعله عن عاصم عن محمود بن لبيد، وكل ذلك فيه مقالٌ، وأصحها المرسل، وعاصم هذا تابعي جليل والقصةُ حصلت لجده فهو أعلم بها، فمرسله هذا صحيح إن شاء الله.
📖 حوالہ / مصدر: ان کے احد میں شریک ہونے اور آنکھ (پتلی) میں چوٹ لگنے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے اسے واپس جوڑ دینے (جس سے وہ پہلے سے بھی بہتر ہو گئی) کی روایت ان کے پوتے عاصم بن عمر بن قتادہ نے ابن ہشام کی "السیرۃ" (2/ 82)، ابن سعد (3/ 419) اور ابن ابی شیبہ (12/ 161, 14/ 397) میں بیان کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض نے اسے عمر بن قتادہ کے واسطے سے اپنے والد قتادہ بن النعمان سے موصول بیان کیا، بعض نے عاصم سے براہ راست ان کے دادا قتادہ سے، اور بعض نے عاصم سے محمود بن لبید سے۔ ان سب میں کلام ہے، اور سب سے صحیح "مرسل" روایت ہے۔ 📌 اہم نکتہ: عاصم جلیل القدر تابعی ہیں اور قصہ ان کے دادا کا ہے، لہذا وہ اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، پس ان کی یہ مرسل روایت ان شاء اللہ "صحیح" ہے۔