🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
415. على أقضانا وأبي أقرأنا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فیصلوں میں سب سے زیادہ ماہر ہیں اور سیدنا اُبیّ رضی اللہ عنہ قراءت میں سب سے بڑھ کر ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5411
أخبرني أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد، حدَّثنا أبو قِلابة، قال: حدثني أبي، قال: حدثني جعفر بن سُليمان، عن أبي عِمران الجَوْني، عن جُندُبٍ، قال: قدمتُ المدينة لأطلُبَ العلمَ، فدخلتُ المسجدَ، فإذا رجلٌ والناسُ مجتمعون عليه، فقلت: مَن هذا؟ قالوا: هذا أبيُّ بنُ كعب، فخرج فتَبِعتُه، فدخلَ منزلَه فضربتُ عليه البابَ، فخرجَ فَزَبَرني وكَهَرني، فاستقبلتُ القِبلةَ، فقلت: اللهمَّ إِنَّا نَشكُوهم إليك، نُنفِقُ نفَقاتِنا، ونُتعِب أبدانَنا، ونَرحَلُ مَطَايانا ابتغاءَ العلمِ، فإِذا لَقِيناهُم كَرِهُونا، فقال: لَئِن أخَّرتَني إلى يوم الجُمُعة لأتكلَّمَن بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ، لا أخافُ فيه لومةَ لائمٍ، فلما كان يومُ الخميس غَدَوتُ فإذا الطُّرق غاصةٌ، فقلت: ما شأن الناسِ اليومَ، قالوا: كأنك غَريبٌ، قلت: أجل، قالوا: مات سيدُ المسلمين أبيُّ بن كعب (1) .
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حصول علم کی غرض سے مدینہ منورہ آیا، جب میں مسجد نبوی شریف میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے اور کچھ لوگ اس کے اردگرد حلقہ لگائے بیٹھے ہیں۔ میں نے لوگوں سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ (جب وہ مسجد سے نکل کر چلے تو) میں ان کے پیچھے ہو لیا۔ وہ اپنے گھر چلے گئے، اور ان کے اندر جانے کے بعد میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ باہر نکلے اور مجھ پر برس پڑے، میں نے قبلہ کی جانب رخ کر کے کہا: اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں ان کی شکایت کرتے ہیں، ہم نے اپنے مال خرچ کئے، ہمارے بدن تھک گئے، ہم نے حصول علم کی خاطر (سفر کر کر کے) اپنی سواریوں کو تھکا ڈالا، اور جب ان سے ہماری ملاقات ہوئی، تو انہوں نے ہمیں برا جانا۔ انہوں نے کہا: اگر تم جمعہ تک مجھے مہلت دو تو میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ایک بات سناؤں گا اور اس سلسلہ میں، میں کسی کی ملامت سے بھی نہیں گھبراؤں گا۔ پھر جب جمعرات کا دن آیا تو میں صبح سویرے ادھر روانہ ہو گیا میں نے دیکھا کہ گلیاں اور بازار لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آج گلیوں میں کیسا ہجوم ہے؟ لوگوں نے کہا۔ لگتا ہے کہ تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ لوگوں نے بتایا کہ سیدالمسلمین سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5411]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5411 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي، أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب، وجُندب: هو ابن عبد الله البَجَلي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے، اور یہ درجہ جعفر بن سلیمان کی وجہ سے ہے۔ 🔍 فنی نکتہ (تعیینِ رواۃ): جعفر بن سلیمان سے مراد "الضبعی" ہیں، ابو عمران الجونی سے مراد "عبدالملک بن حبیب" ہیں اور جندب سے مراد صحابی رسول "جندب بن عبداللہ البجلی" ہیں۔
وأخرجه مختصرًا ابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه" (1652) عن أبي ظفر عبد السلام بن مطهَّر، عن جعفر بن سليمان، عن أبي عمران الجَوْني، عن جُندب البَجَلي قال: قدمتُ المدينة ابتغاء العلم، فدخلتُ المسجد، فانتهيت إلى حلقة فيها رجلٌ شابّ عليه ثوبان كأنما قدم من سفر، فقلت: من هذا؟ فقالوا: هذا سيد المسلمين أبيُّ بنُ كعب.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو مختصراً "ابن ابی خیثمہ" نے اپنی "تاریخ" کے سفرِ ثالث (حصہ سوم) میں رقم (1652) کے تحت نقل کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت ابو ظفر عبدالسلام بن مطہر ← جعفر بن سلیمان ← ابو عمران الجونی ← حضرت جندب البجلی کے واسطے سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: "میں علم کی تلاش میں مدینہ منورہ آیا، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک حلقے تک پہنچا جس میں ایک نوجوان آدمی تھے جنہوں نے دو کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے گویا کہ وہ ابھی سفر سے آئے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ مسلمانوں کے سردار حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔"
وقد تقدَّم الخبر بأطول ممّا هنا برقم (2928) من طريق السري بن خزيمة عن محمد بن عبد الله الرَّقاشي.
📌 اہم نکتہ: یہ خبر (روایت) یہاں مذکور الفاظ سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اسی کتاب میں پیچھے گزر چکی ہے، جسے رقم (2928) کے تحت "سری بن خزیمہ عن محمد بن عبداللہ الرقاشی" کے طریق سے بیان کیا گیا ہے۔