🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
414. أعظم آي القرآن آية الكرسي
قرآنِ مجید کی سب سے عظیم آیت آیت الکرسی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5410
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي السَّلِيل، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أُبي بن كعب، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"أبا المُنذِر، أيُّ آيةٍ في كتاب الله معك أعظمُ؟" قال: قلتُ: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255] ، قال: فَضَرَب صدري، وقال:"لِيَهْنِكَ العلمُ أبا المُنذِر" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5326 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے ابوالمنذر! تمہارے پاس قرآن کی سب سے عظیم آیت کونسی ہے؟ میں نے کہا: الله لا إله إلا هو الحى القيوم آپ فرماتے ہیں: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سینہ تھپکا کر فرمایا: اے ابوالمنذر! تمہیں اس بات کا علم مبارک ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5410]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5410 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إبراهيم بن عبد الله: هو ابن يزيد السَّعْدي، وأبو السَّلِيل: هو ضُرَيب بن نُقَير القيسي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ (تعیینِ رواۃ): سند میں موجود راوی "ابراہیم بن عبداللہ" سے مراد ابراہیم بن عبداللہ بن یزید السعدی ہیں، اور "ابو السلیل" سے مراد ضریب بن نقیر القیسی ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21278)، ومسلم (810)، وأبو داود (1460) من طريقين عن سعيد الجُريري، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی تخریج امام احمد (35/ 21278)، امام مسلم (810) اور امام ابوداؤد (1460) نے سعید الجریری کے واسطے سے دو مختلف طریقوں (اسانید) کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا (یہ کہنا کہ یہ صحیحین میں نہیں ہے) ان کا "ذہول" (بھول چوک) ہے کیونکہ یہ امام مسلم کی روایت کردہ ہے۔