🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
416. الاختلاف فى قراءة بعض الآيات بين أبى وعمر
سیدنا اُبیّ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان بعض آیات کی قراءت میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5413
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا أبو أسامة، عن محمد بن عمرو، حدَّثنا أبو سلمة ومحمد بن إبراهيم التَّيمي، قالا: مَرَّ عمر بن الخطاب برجل وهو يقول: ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ إلى آخر الآية [التوبة: 100] ، فوقف عليه عمرُ، فقال انصرِف، فلما انصرفَ قال له عمر: مَن أقرأكَ هذه الآية؟ قال: أَقرأنِيها أبيُّ بنُ كعب، فقال: انطلِقُوا بنا إليه، فانطلَقُوا إليه، فإذا هو مُتكئٌ على وسادةٍ يُرجِّل رأسَه، فسَلَّم عليه، فردَّ السلامَ، فقال: يا أبا المُنذِر، قال: لَبَّيكَ، قال: أخبَرَني هذا أنك أقرأتَه هذه الآيةَ، قال: صدقَ، تَلقَّيتُها من رسولِ الله ﷺ قال عُمر: أَنتَ تَلقَّيتَها مِن رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، أنا تلقَّيتُها مِن رسول الله ﷺ، ثلاثَ مرات، كلَّ ذلك يقولُه، ثم قال في الثالثة وهو غَضبانُ: نعم، والله لقد أنزلَها الله على جِبريلَ، وأنزلها جِبريلُ على محمدٍ، فلم يَستأمِرْ فيها الخَطاب ولا ابنَه، فخرج عمرُ وهو رافِعٌ يدَيه وهو يقول: الله أكبرُ، الله أكبرُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5329 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ابوسلمہ اور محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا، وہ یہ آیت پڑھ رہا تھا: {السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ} [التوبة: 100] اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سن کر وہیں رک گئے۔ جب وہ آدمی فارغ ہوا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اس سے کہا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ چلو، وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل دیئے، آپ ان کو لے کر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچے، اس وقت سیدنا ابی بن کعب تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے سر میں کنگی کر رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوالمنذر! انہوں نے آپ کی بات پر لبیک کہا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس شخص نے بتایا ہے کہ اس کو یہ آیت تم نے پڑھائی ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ میں نے یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ بات پوچھی اور انہوں نے) تین مرتبہ یہی جواب دیا بلکہ تیسری مرتبہ تو وہ بہت غصے میں آ گئے اور فرمایا: ہاں ہاں خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے یہ آیت سیدنا جبریل امین علیہ السلام پر نازل کی اور انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ اس میں نے خطاب سے مشورہ کیا اور نہ اس کے بیٹے سے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے واپس آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5413]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5413 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسنٌ، وهذا إسنادٌ رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسل، فلم يدرك محمدُ بنُ إبراهيم التيمي ولا أبو سلمة - وهو ابن عبد الرحمن بن عوف - عُمرَ بنَ الخطاب، والذي استشكله عمر بن الخطاب هو قراءة ﴿وَالَّذِينَ﴾ بالواو قبلها وبعطف الأنصار على المهاجرين، إذ كان عمر يقرأ: (والأنصار الذين) برفع الأنصار وحذف الواو قبل الموصول، ليكون الموصولُ صفةً للأنصار، وقد رُوي نحو هذه القصة وقراءة عمر هذه الآية من وجوه عنه مرسلة، وفي بعضها أنَّ زيد بن ثابت كان يقرؤها كأبي بن كعب، وأنَّ عمر رجع إلى قراءتهما.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے رجال (راوی) "لا بأس بھم" (یعنی ثقہ/قابل قبول) ہیں، لیکن یہ سند "مرسل" (منقطع) ہے، کیونکہ نہ تو محمد بن ابراہیم التیمی نے اور نہ ہی ابو سلمہ (جو عبدالرحمٰن بن عوف کے بیٹے ہیں) نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: جس مقام پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اشکال پیش آیا، وہ (سورۃ التوبہ: 100) کی آیت میں ﴿وَالَّذِينَ﴾ کی قراءت ہے جسے وہ "واؤ" کے ساتھ اور انصار کا عطف مہاجرین پر مانتے ہوئے پڑھنے پر متردد تھے۔ حضرت عمر خود اسے (والأنصارُ الذين) پڑھتے تھے، یعنی لفظ "انصار" پر پیش (رفع) کے ساتھ اور اسم موصول (الذین) سے پہلے "واؤ" کو حذف کر کے، تاکہ "الذین" انصار کی صفت بن جائے۔ یہ قصہ اور حضرت عمر کی یہ مخصوص قراءت دیگر کئی سندوں سے حضرت عمر سے "مرسل" طریقہ پر مروی ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی اس آیت کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرح (واؤ کے ساتھ) پڑھتے تھے، اور بالآخر حضرت عمر نے ان دونوں کی قراءت کی طرف رجوع فرما لیا تھا۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "المطالب العالية" للحافظ ابن حجر (3618) عن عبْدة بن سُليمان، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن وحده.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کی تخریج اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" میں کی ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر کی "المطالب العالية" (رقم: 3618) میں موجود ہے، یہ روایت عبدہ بن سلیمان ← محمد بن عمرو بن علقمہ ← ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (تنہا) کے طریق سے مروی ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن وهب في التفسير من "جامعه" 2/ (1)، والطبري في "تفسيره" 11/ 8 من طريق محمد بن كعب القُرظي، مرسلًا. لكن ليس فيه قول أُبيٍّ لعمر في آخره، إنما جاء فيه بدلًا منه قولُ عمر: لقد كنتُ أظن أنا رُفعنا رفعةً لا يبلغُها أحدٌ بعدنا، فقال أبيٌّ: بلى، تصديق هذه الآية في أول سورة الجمعة: ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ إلى ﴿وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾، وفي سورة الحشر: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾، وفي الأنفال: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنْكُمْ﴾ إلى آخر الآية.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو ابن وہب نے اپنی کتاب "الجامع" کے حصہ تفسیر (2/ 1) میں، اور امام طبری نے اپنی "تفسیر" (11/ 8) میں محمد بن کعب القرظی کے طریق سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: لیکن اس طریق میں آخر میں حضرت ابی کا حضرت عمر سے مکالمہ مذکور نہیں، بلکہ اس کی جگہ حضرت عمر کا یہ قول ہے: "میرا گمان تھا کہ ہمیں ایسا مقام و مرتبہ ملا ہے کہ ہمارے بعد کوئی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔" اس پر حضرت ابی نے فرمایا: "کیوں نہیں! (بعد والوں کا بھی درجہ ہے) اس کی تصدیق سورۃ الجمعہ کی شروع کی آیت میں ہے: ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ (اور ان میں سے دوسرے لوگوں کے لیے بھی جو ابھی ان سے نہیں ملے)۔۔۔ آخر تک۔ اور سورۃ الحشر میں ہے: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ...﴾ (اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے۔۔۔)۔ اور سورۃ الانفال میں ہے: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ...﴾ (اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ تم ہی میں سے ہیں)۔۔۔ آیت کے آخر تک۔"
وأخرجه بنحوه أيضًا ابن وهب في التفسير من "جامعه" 1/ (60) عن ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، مرسلًا كذلك، لكن لفظ آخره: فقال له عمر: فما منعك أن تخبرني؟ فقال: فَرِقتُ منك، قال عمر: ذلك أجدرُ ألا تكون من شهداء الله.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت ابن وہب نے "الجامع" کے حصہ تفسیر (1/ 60) میں ابن لہیعہ ← یزید بن ابی حبیب کے طریق سے بھی "مرسلاً" نکالی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: البتہ اس کے آخری الفاظ کچھ یوں ہیں: حضرت عمر نے حضرت ابی سے فرمایا: "آپ کو کس چیز نے روکا کہ مجھے (پہلے) نہ بتایا؟" حضرت ابی نے کہا: "میں آپ (کے رعب) سے ڈر گیا۔" اس پر حضرت عمر نے فرمایا: "یہ ڈر اس بات کے زیادہ لائق تھا کہ آپ اللہ کے گواہوں میں سے نہ بنتے (یعنی حق بات بتانے میں میری ہیبت مانع نہیں ہونی چاہیے تھی)۔"
وأخرج أبو عبيد القاسم بن سلام في "فضائل القرآن" ص 301، ومن طريقه الطبري في "تفسيره" 11/ 8 من طريق حبيب بن الشهيد وعمرو بن عامر الأنصاري مرسلًا: أن عمر بن الخطاب قرأ … فذكر الآية من سورة التوبة، فرفع الأنصار، ولم يُلحِق الواو في (الذين)، فقال له زيد بن ثابت: ﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ﴾ فقال عمر: (الذين اتبعوهم بإحسانٍ)، فقال زيد: أمير المؤمنين أعلمُ، فقال عمر: ائتوني بأبي بن كعب، فسأله عن ذلك، فقال أُبيٌّ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ﴾، فقال عمر: فنَعَم إذًا، فتابع أُبيًّا.
📖 حوالہ / مصدر: ابو عبید القاسم بن سلام نے "فضائل القرآن" (ص 301) میں اور انہی کے طریق سے امام طبری نے اپنی "تفسیر" (11/ 8) میں حبیب بن الشہید اور عمرو بن عامر الانصاری سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: قصہ یوں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے سورۃ التوبہ کی آیت تلاوت کی۔۔۔ تو انہوں نے "الانصار" کو رفع (پیش) کے ساتھ پڑھا اور (الذین) کے ساتھ "واؤ" نہیں ملائی۔ اس پر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ٹوکتے ہوئے پڑھا: ﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ﴾ (واؤ کے ساتھ)۔ حضرت عمر نے پھر (اپنی قراءت دہرائی): "الذين اتبعوهم بإحسانٍ"۔ حضرت زید نے (ادباً) کہا: "امیر المومنین زیادہ جانتے ہیں۔" تب حضرت عمر نے فرمایا: "مجھے ابی بن کعب کو بلا لاؤ۔" پھر ان سے اس بابت پوچھا، تو حضرت ابی نے بھی پڑھا: ﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ﴾ (واؤ کے ساتھ)۔ تب حضرت عمر نے فرمایا: "اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے،" چنانچہ انہوں نے حضرت ابی کی پیروی کی۔